بھرت پور: راجستھان میں سرگرم نئے ویدرسسٹم کے آفت بن کر برسنے سے بھرت پور ڈویژن کے تین اضلاع دھول پور، کرولی اور سوائی مادھوپور میں حالات خراب ہوتے جا رہے ہیں۔ڈویژن کے ان اضلاع میں مقامی انتظامیہ کے علاوہ این ڈی آر ایف، ایس ڈی آر ایف کی ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں۔ فوج اور این ڈی آر ایف (نیشنل ڈیزاسٹر ریلیف فورس) کی ٹیمیں لوگوں کو بچانے کی مسلسل کوشش کر رہی ہیں لیکن اب بھی بہت سے لوگ مدد کے منتظر ہیں۔دھول پور میں چمبل ندی 26 سال کا ریکارڈ توڑنے کے قریب ہے ۔ یہاں ندی کی سطح 142 میٹر سے اوپر پہنچ گئی ہے جو خطرے کے نشان سے تقریباً 12 میٹر اوپر ہے ۔ امکان ظاہر کیا جارہا ہے ندی بدھ کی شام تک خطرے کے نشان سے 15 میٹر اوپر پہنچ جائے گی، جو 1996 کا ریکارڈ توڑنے کے قریب ہے ۔ کرولی اور دھول پور کے دور دراز دیہات کا ضلع ہیڈکوارٹر سے رابطہ منقطع ہو گیا ہے ۔ بھاری مقدار میں پانی کی آمد کے باعث مقامی ندی نالوں میں طغیانی ہے ، دیہات جزیرے بن گئے ہیں اور ٹریفک ٹھپ ہو کر رہ گئی ہے ۔ دھول پور کے 80 دیہاتوں میں الرٹ جاری کر دیا گیا ہے ، جبکہ کرولی کے دیہاتوں سے بھی لوگوں کو بچایا جا رہا ہے ۔کوٹہ بیراج سے پانی چھوڑے جانے کی وجہ سے دھول پور اورکرولی میں خراب صورت حال کے درمیان دھول پور کے 25 اور کرولی کے 6 گاؤں کو خالی کرانا پڑا اورلوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔ ٹونک ضلع کے اونیارا میں واقع گلوا ڈیم کے 41 سالوں میں پہلی باراوور فلو ہونے کی وجہ سے ، اس کا براہ راست اثر ضلع سوائی مادھوپور میں محسوس کیا جا رہا ہے ۔ ایک طرف بناس اور دوسری طرف گلوا ندی کے درمیان کئی دیہاتوں میں لوگ پھنسے ہوئے ہیں۔