دہلی پولیس اور حکومت جوابدہ

   

وعدہ رہا نہ یاد تغافل شعار کو
کیا اب جواب دوں نگاہِ انتظار کو
ہندوتوا غنڈوں کی جانب سے قانون کی دھجیاں اڑانے کا معاملہ یہاں تک پہونچ گیا ہے کہ وہ کیمرے پر بیٹھ کر سر عام یہ دعوی کر رہے ہیں کہ انہوں نے اقدام قتل کی واردات انجام دی لیکن پولیس نے انہیں گرفتار نہیں کیا وہ آزاد گھومتے رہے ہیں اور اپنے سیاسی تعلقات کا بھی وہ کیمرے پر دعوے کرتے ہیں۔ ایس کرنے والے ملزمین کا یہ بھی اعلان ہے کہ وہ اگر دوبارہ موقع ملے تب بھی ایسا کرنے سے گریز نہیں کریں گے ۔ یہ معاملہ ہے کہ ایک خود ساختہ گئو رکھشک سواتنتر بھردواج کا ۔ اس نے ایک پوڈ کاسٹ میں حصہ لیتے ہوئے خود کے کٹر ہندو ہونے کا دعوی کیا اور یہ اعتراف کیا کہ اس نے جنتر منتر پر سی جے پی کے احتجاج کے دوران ایک احتجاجی وجوان لڑکی نشو آزاد کے والد کو مارپیٹ کا نشانہ بنایا ۔ ان کا سر پھوڑ دیا ۔ سر پر 60 ٹانکے لگے ہیں اس کے باوجود وہ ساری رات آزاد گھومتا رہا ۔ اب بھی وہ آزاد ہے ۔ یہ معاملہ اقدام قتل کے تحت آتا ہے ۔ پولیس نے اسے گرفتار نہیں کیا ۔ اس نے کیمرے پر کہا کہ بی جے پی لیڈر کپل مشرا اس کا بڑا بھائی جیسا ہے ۔ ملک کے وزیر اعظم نریندرمودی اس کے بڑے بھائی جیسے ہیں۔ اس طرح کے دعوے اور کیمرے پر کھلے عام اقبال جرم کرنے اور اقدام قتل جیسے سنگین جرم کا اعتراف کرنے کے باوجود پولیس نے اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی ۔ وہ کھلے عام کہہ رہا ہے کہ بی جے پی قائدین کے ساتھ اس کے قریبی تعلقات ہیں۔ وہ مستقبل میں بھی ایسی واردات انجام دینے سے گریز نہیں کرے گا ۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ایک دن قبل ہی یہ ویڈیو وائرل ہوا تھا اس کے باوجود پولیس نے اپنے طور پر کوئی کارروائی کرنی ضروری نہیں سمجھی ۔ آج سی جے پی کی جانب سے پولیس اسٹیشن پر دھرنا دیا گیا ۔ رکن پارلیمنٹ چندر شیکھر آزاد بھی وہاں پہونچے ۔ سی جے پی کے نمائندے بھی وہاں پہونچے تب بھی پولیس نے آئندہ تین دن میں ملزم کو گرفتار کرنے کا تیقن دیا ہے ۔ کیمرے پر اقبال جرم کرنے والے کو گرفتار کرنے پولیس کو 72 گھنٹے کا وقت درکار ہے ۔
دہلی پولیس اور ملک کے وزیر داخلہ امیت شاہ کو ملک کے عوام کے سامنے جواب دینے کی ضرورت ہے کہ اس طرح کے غنڈہ عناصر کس طرح سے آزاد گھوم رہے ہیں۔ ان کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی گئی ۔ اقدام قتل کی واردات انجام دینے کے باوجود مقدمہ درج کرکے جیل کیوں نہیں بھیجا گیا ۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ کیمرے پرا قبال جرم کرنے والے آزاد گھوم رہے ہیں اور جن کے خلاف الزامات ابھی ثابت نہیں ہوئی ہیں وہ طلباء اور نوجوان اور جہد کار کئی برس سے جیل کی ہوا کھانے پر مجبور ہیں۔ حکومت کو جواب دینے کی ضرورت ہے کہ دہلی پولیس آخر اتنی نا اہل کس طرح سے ہوسکتی ہے یا وہ جرائم سے کس طرح سے چشم پوشی کرسکتی ہے کہ ایک شخص اقدام قتل کی واردات انجام دیتا ہے ۔ آزاد گھومتا ہے ۔ وہ کیمرے پر اقبال جرم کرتا ہے ۔ اپنے جرم پر فخر کا اظہار کرتا ہے اور اس کو گرفتار کرنے کیلئے پولیس کو ھنجھوڑنا پڑتا ہے ۔ پولیس کو اس کے فرائض یاد دلانے پڑتے ہیں ۔ دہلی پولیس کا رویہ اگراس طرح کا رہتا ہے تو پھر عوام کی سکیوریٹی اور ان کی سلامتی پر شکوک پیدا ہونے واجبی ہیں۔ اس کے علاوہ بی جے پی کے قائدین اور حکومت کو بھی یہ وضاحت کرنی چاہئے کہ کس طرح سے کیمرے پر اقبال جرم کرنے والا ملزم ان سے تعلقات کا دعوی کر رہا ہے اور وہ مستقبل میں بھی اس طرح کی واردات انجام دینے کا اعلان کرتا ہے اور اسے اپنے جرم پر پچھتاوا نہیں ہے بلکہ وہ فخر کا اظہار کر رہا ہے ۔
یہ صورتحال ملک میں قانون اور دستور کی بالادستی کیلئے ایک سوالیہ نشان بن گئی ہے ۔ اس سے دہلی پولیس کی کارکردگی پر سوال پیدا ہو رہے ہیں کہ آیا پولیس عوام کیلئے کام کر رہی ہے یا پھر وہ سیاسی آلہ کار کا رول ادا کرنے لگی ہے ۔ ملک کے وزیر داخلہ کو بھی اس کا نوٹ لینے کی ضرورت ہے کیونکہ دہلی پولیس وزارت داخلہ کے تحت کام کرتی ہے ۔ اس طرح کے واقعات قانون کے تئیں عوام کے یقین اور اعتماد کو متزلزل کرنے کی وجہ بنتے ہیں اور پولیس کی شبیہ عوام کے ذہنوں میں بہتر ہونے کی بجائے مزید بگڑتی ہے ۔