دیگر طبقات کے طرز پر اقلیتی اداروں کو فعال بنانے کی ضرورت

   

اقلیتوں میں شعور بیدار کیا جائے، صدر ٹی این جی اوز حیدرآباد ایس ایم حسینی کا انٹرویو

حیدرآباد 29 ستمبر (سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندرشیکھر رائو کے ریاست میںتمام طبقات کی مساوی ترقی کے خواب کو شرمندہ تعبیر بنانے کے لئے ایس سی‘ ایس ٹی‘ بی سی ‘ کے طرز پر حکومت کے اقلیتی اداروں کوبھی فعال بنانے کی ضرورت ہے ۔ مختلف سرکاری محکموں میں84ہزار جائیدادوں پر تقررات کے لئے حکومت کا اعلامیہ جاری ہوگیا ہے ۔ اقلیتی اداروں اور اس کے ذمہ داران کو اس خصوص میں اپنی توجہ مرکوز کرنے کی شدید ضرورت ہے۔سیاست ٹی وی سے اپنی خصوصی بات چیت میں ٹی این جی اوز ضلع حیدرآباد کے صدر ایس ایم حسینی مجیب نے اس کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے کہاکہ ریاست میںایک وقت تھا جب سرکاری ملازمتوں میںاقلیتوں کی حصہ داری 50سے 60فیصد کی مگر اب وہ گھٹ کر دو فیصد سے بھی کم ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایس سی ‘ ایس ٹی‘ او بی سی طبقات کی ترقی ‘ فلاح وبہبود کے لئے حکومت جو بجٹ اور فنڈس کی اجرائی عمل میںلاتی ہے اس کا90سے زائد فیصد حصہ خرچ کیاجاتا ہے جبکہ اقلیتوں کے نام پر جاری کئے جانے والے بجٹ او رفنڈس کا خاطر خواہ استعمال نہیںہوتا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ دنیا بھر میںپہلی مرتبہ کسی حکومت نے روز گار کے متعلق اتنا بڑا اقدام اٹھاتے ہوئے 84ہزار جائیدادوں کے لئے اعلامیہ جاری کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ چیف منسٹر کے چندرشیکھر رائو کا یہ تاریخ ساز فیصلہ ہے اور اس سے اقلیتی طبقات کواستفادہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔ ایس ایم حسینی مجیب نے کہاکہ گریٹر حیدرآباد کے دور دراز علاقوں میں ایس سی ‘ ایس ٹی اور بی سی امیدواروں کے لئے اسٹڈی سنٹرس قائم کئے گئے ہیں جہاں پر ریاست بھر سے نوجوان آکر تربیت حاصل کررہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اقلیتی اداروں کو بھی چاہئے کہ وہ اس طر ح کے سنٹرس کا قیام عمل میںلائیںتاکہ اقلیتی طبقات سے تعلق رکھنے والے تعلیمی یافتہ نوجوان درجہ چہارم کی ملازمت حاصل کرنے کے لئے منعقد ہونے والے مسابقتی امتحانات کی تیاری کرسکیں۔انہوں نے کہاکہ اقلیتی نوجوانو ں میںشعور کی کمی کی وجہہ سے بیشتر تعلیمی یافتہ نوجوان بیرونی ممالک میںیا تو تعلیم حاصل کرنے یا پھر ملازمت کی تلاش میںنقل مقام کررہے ہیںتاہمجب سے تلنگانہ ریاست کی تشکیل عمل میںآئی ہے اور حکومت کی جانب سے قومی تعمیر کے اقدامات اٹھائے جارہے ہیںتب سے نوجوانوں کے رحجان میںتبدیلی آئی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اگر اقلیتی طبقات کے نوجوان سرکاری ملازمت کے حصول کی طرف مائل ہونا گویا ریاست میںاقلیتوں کے کھوئی ہوئی وقار کی بحالی کے مترادف ہوگا۔انہوں نے تلنگانہ کے تمام اقلیتی ادارو ں کے چیرمنوں‘ مشیر حکومت تلنگانہ ‘ اور ریاست کے وزیرداخلہ محمد محمودعلی سے اس خصوص میںتوجہہ دینے کی اپیل کی۔ سرکاری اسپتالوں کی حالت میںتبدیلی پر ایس ایم حسینی مجیب نے کہاکہ جب سے وزیرٹی ہریش رائو نے یہ ذمہ داری سنبھالی ہے تب سے ریاست کے تمام سرکاری اسپتالوں میں بہترین خدمات انجام دئے جارہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ٹی این جی اوز ضلع حیدرآباد سرکاری ملازمین کے مسائل کے حل کے ساتھ ساتھ سماجی کام بھی انجام دیتا ہے۔انہوں نے کہاکہ شہر کے تمام سرکاری اسپتالوں میںٹی این جی اوز کے یونٹس قائم ہیںجہاں پر سرکاری ملازمین کے علاوہ ہم پریشان حال عوام کی مدد کے لئے بھی نمائندگی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اب تک سینکڑوں افراد کے گھنٹوں ‘ دماغ ‘ قلب ‘ گردوں کے امراض میںمبتلاء افراد کے آپریشن کے ہم نے کرائیں جبکہ گھنٹوں کی تبدیلی کا کام بھی ٹی این جی اوز کی نمائندگی پر عثمانیہ جنرل اسپتال میںانجام دئے گئے ہیں۔ ایس ایم حسینی مجیب نے کہاکہ ضرورت مند اصحاب ٹی این جی اوز کے دفتر سے رجوع ہوکر اپنے طبی‘ تعلیمی مسائل کا حل تلاش کرسکتے ہیں۔