واشنگٹن ۔ امریکی حکومت پر ایرانی نژاد امریکیوں اور دوسروں کا دباؤ ہے کہ ایران کے سخت گیر صدر ابراہیم ریئسی اور ان دوسرے ایرانی عہدیداروں کو نہ تو ویزا دیا جائے اور نہ تحفظ فراہم کیا جائے جو متوقع طور پر آئندہ ماہ نیو یارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے آ رہے ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ نے جمعرات کے روز عندیہ دے دیا ہے کہ وہ ان ایرانیوں کو ویزا دینے سے انکار نہیں کرے گا جو وسط ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 77 ویں اجلاس میں شرکت کا ارادہ رکھتے ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ کے نائب ترجمان ویدانت پٹیل نیوائس آف امریکہ کے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ امریکی قانون کے تحت ویزا ریکارڈ خفیہ ہوتے ہیں۔