840 کروڑ کی منظوری، شرائط میں نرمی، استفادہ کرنے عبیداللہ کوتوال کی اپیل
حیدرآباد۔/26 مارچ، ( سیاست نیوز) صدرنشین تلنگانہ اقلیتی فینانس کارپوریشن محمد عبیداللہ کوتوال نے اقلیتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ راجیو وکاسم اسکیم سے بھرپور استفادہ کریں تاکہ چھوٹے کاروبار کے آغاز کیلئے حکومت سے سبسیڈی پر مبنی امداد حاصل کی جاسکے۔ عبید اللہ کوتوال نے بتایا کہ درخواستوں کے ادخال کیلئے شرائط میں نرمی کی گئی ہے اور سابق میں ایک لاکھ روپئے کی امداد کیلئے درخواستیں داخل کرنے والے امیدواروں کو نئی اسکیم کے تحت بھی درخواستوں کے ادخال کی اجازت رہے گی۔ اس کے علاوہ سیونگ مشین اسکیم سے استفادہ کرنے والے خاندان بھی درخواست داخل کرسکتے ہیں۔ حکومت نے اقلیتوں کیلئے 840 کروڑ روپئے کی منظوری دی ہے اور سکھ ، عیسائی، جین اور پارسی طبقات کے امیدواروں کے انتخاب کے بعد مسلم اقلیت کے لئے 751 کروڑ کی گنجائش رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ ریاست بھر میں تقریباً 42 ہزار سے زائد اقلیتی نوجوان اسکیم سے استفادہ کرپائیں گے۔ آبادی کے اعتبار سے اضلاع کیلئے ٹارگٹ مقرر کیا جارہا ہے اور حیدرآباد کے علاوہ اضلاع کے اسمبلی حلقہ جات میں فی کس 400 تا 500 نوجوانوں کو اسکیم سے استفادہ کا موقع ملے گا۔ عبید اللہ کوتوال نے کہا کہ درخواستوں کے ادخال میں راشن کارڈ کی شرط میں نرمی کرتے ہوئے راشن کارڈ یا انکم سرٹیفکیٹ کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسکیم کے تحت 50 ہزار روپئے تک کی رقم صد فیصد سبسیڈی رہے گی جبکہ ایک لاکھ روپئے پر 90 فیصد، 2 لاکھ کیلئے 80 فیصد اور 4 لاکھ کیلئے 70 فیصد سبسیڈی فراہم کی جائے گی۔ باقی رقم بینک لون کے طور پر رہے گی۔ صدرنشین اقلیتی فینانس کارپوریشن نے کہا کہ زیادہ سے زیادہ اقلیتوں کو اسکیم سے استفادہ کا موقع فراہم کرنے کیلئے بی آر ایس دور حکومت میں ایک لاکھ روپئے امداد کیلئے داخل کی گئی تمام درخواستوں کو منسوخ کردیا گیا اور وہ امیدوار راجیو وکاسم اسکیم کیلئے درخواستیں داخل کرسکتے ہیں۔ سیونگ مشین حاصل کرنے والے خاندانوں کو اسکیم سے استفادہ کی گنجائش نہیں تھی لیکن تازہ ترین فیصلہ میں سیونگ مشین حاصل کرنے والے خاندان بھی درخواست داخل کرنے کے اہل ہوں گے۔ آن لائن درخواستوں کے ادخال کے بعد اقلیتی امیدوار ہارڈ کاپی اقلیتی فینانس کارپوریشن کے دفتر واقع حج ہاوز، نامپلی میں جمع کراسکتے ہیں۔1