رہنمایانہ خطوط جاری کرنے کی تیاری ، حکومت پر سالانہ 450 کروڑ روپئے کا اضافی مالی بوجھ
حیدرآباد ۔ 14 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز ) : حکومت ریاست میں آروگیہ شری کو اسپیشل اسکیم کے طور پر نافذ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے ۔ راشن کارڈ اور مالیاتی موقف کے تعلق کے بغیر تمام لوگوں کو اس اسکیم سے فائدہ پہونچانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ اس فیصلے کے مطابق استفادہ کنندگان کو راجیو آروگیہ شری کے نام سے نئے کارڈس جاری کرنے کا منصوبہ تیار کیا جارہا ہے ۔ اس پس منظر میں عہدیدار رہنمایانہ خطوط تیار کرنے میں مصروف ہوگئے ہیں ۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ خانگی انشورنس کمپنیوں کی طرح ہر خاندان کو ایک یونٹ کے طور پر لیتے ہوئے ایک خصوصی نمبر دینے اور کارڈس جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ حکومت نے پہلے ہی ریاست کے ہر شہری کا ڈیجیٹل ہیلت پروفائیل تیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ان تفصیلات کو آروگیہ شری کارڈ سے مربوط کردیا جائے گا ۔ یہ عمل دو سے تین ماہ میں شروع ہونے کا امکان ہے ۔ اس وقت ریاست میں 90 لاکھ سے زیادہ سفید راشن کارڈس ہیں ۔ دیگر میں سرکاری ملازمین بھی شامل ہیں ۔ ان کے لیے بھی حکومت خصوصی ہیلت اسکیم پر عمل کرنے کا جائزہ لے رہی ہے ۔ جس سے 90 فیصد سے زیادہ آبادی کو ہیلت اسکیم حاصل ہونے کا محکمہ ہیلت کی جانب سے اندازہ لگایا جارہا ہے ۔ ماباقی دیگر کا احاطہ کیا جاتا ہے اور راشن کارڈ سے اس لنک ختم کیا جاتا ہے تو کارڈس کی تعداد میں کمی ہونے کی امید کی جارہی ہے ۔ اگر اس طرح کا کوئی فیصلہ کیا جاتا ہے تو حکومت پر سالانہ 450 کروڑ روپئے کا اضافی مالی بوجھ عائد ہوگا ۔ حکومت نے آروگیہ شری اسکیم کے تحت فی الحال 1670 امراض کا علاج کررہی ہے ۔ اس میں مزید 100 امراض کو شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ حکومت نے آروگیہ شری اسکیم کے تحت علاج کی حد تک 5 لاکھ سے بڑھاکر 10 لاکھ روپئے کردیا ہے ۔ اس کے علاوہ پیاکیج کی قیمتوں پر بھی نظر ثانی کرنے کا جائزہ لیا جارہا ہے ۔۔ 2