راشن گھوٹالہ کے مبینہ فرار ملزم نے آفیشل فیس بک پر ترنگا پوسٹ کیا۔ای ڈی حرکت میں آگئی

   

کولکاتہ : راشن گھوٹالہ میں مبینہ طور پر ملوث شاہجہاں شیخ ای ڈی کی ٹیم پر حملہ کے بعد گزشتہ تین ہفتوں سے لاپتہ ہے ۔ مرکزی تفتیشی ایجنسی ای ڈی اور ریاستی پولس اس کی تلاش کررہی ہے مگر اب تک کوئی سراغ نہیں ملا ۔ تاہم آج شاہجہاں شیخ کے فیس بک اکائونٹ سے ترنگا پوسٹ کیا گیا ہے ۔ اس کے بعد ہی جانچ ایجنسی آئی پی ایڈریس کا پتہ لگانے میں سرگرم ہوگئی ہے کہ شاہجہاں شیخ کا صفحہ کون چلا رہا ہے ۔ کیا ایڈمن کا شاہ جہاں شیخ سے تعلق ہے ۔ اس کے دریعہ لاپتہ لیڈر تک پہنچنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ شاہجہان نے آج یوم جمہوریہ کے موقع پر اپنے فیس بک پیج پر ایک تصویر پوسٹ کیا ہے ۔اس پوسٹ میں قومی پرچم کی تصویر کے سوا کچھ نہیں ہے ۔ کوئی الفاظ نہیں لکھے نہیں گئے ہیں ۔اس کے ساتھ ہی ترنمول کانگریس کا نشان بھی غائب ہے ۔ یہ فیس بک صفحہ شاہجہاں شیخ کا آفیشل صفحہ ہے جس میں ان کے مختلف مواقع کی تصویر ،، ویڈیو اور تقریر پوسٹ کیا گیا ہے ۔اس صفحہ پر 20ہزار فالوورز ہیں ۔ اس سے قبل آخری پوسٹ شاہجہان کے اسی صفحے سے 2 جنوری کو کی گئی تھی یعنی لاپتہ ہونے سے صرف تین دن قبل۔ اس پوسٹ میں بی جے پی لیڈر شوبھندو ادھیکاری کے الزامات کا جواب دیا گیا تھا۔2جنوری سے قبل ہر دن اس صفحہ پر کچھ نہ کچھ پوسٹ کیا جاتا تھا ۔
سیاسی رہنما یا ممتاز افراد اکثر فیس بک پیج چلانے کیلئے الگ سے کسی نہ کسی کی خدمات لیتے ہیں وہ خود اپنے فیس بک پیج کو نہیں چلاتے ہیں ۔جانچ ایجنسی بھی یہ مان رہی ہے کہ شاہجہاں شیخ کا فیس بک اکائونٹ کوئی اور چلارہا ہے ۔تاہم یہ جاننے کی کوشش کی جارہی ہے کہ اس کا ایڈمین کون ہے ۔ کیا یہ شاہجہان کی رضامندی کے بغیر فیس بک پیج پر پوسٹ کیا گیا ہے ؟ اور اگر شاہ جہاں کی مرضی سے پوسٹ کیا گیا ہے تو دونوں کا رابطہ کیسے ہوا ۔