شبِ سیاہ میں گم ہوگئی ہے راہِ حیات
قدم سنبھل کے اٹھائو بہت اندھیرا ہے
بالآخر وہی کچھ ہوا جس کا عام آدمی پارٹی کی جانب سے شبہ ظاہر کیا جا رہا تھا ۔ رکن راجیہ سبھا راگھو چڈھا نے پارٹی سے استعفی پیش کردیا ہے اور اب وہ مزید چھ راجیہ سبھا ارکان کو اپنے ساتھ لے کر بی جے پی میں شمولیت اختیار کرنے جا رہے ہیں۔ راگھو چڈھا نے خود ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے اپنے منصوبے کا اعلان کیا ۔ انہوں نے پارٹی کے دیگر ارکان راجیہ سبھا کے نام بھی بتائے جو ان کے ساتھ بی جے پی میں شمولیت اختیار کرنے والے ہیں ۔ چڈھا کے ساتھ سابق کرکٹر ہربھجن سنگھ ‘ دہلی خواتین کمیشن کی سابق صدر نشین سواتی مالیوال ‘ اشوک متل اور سندیپ پاٹھک بھی بی جے پی میں شمولیت اختیار کرنے والے ہیں۔ انہوں نے راجیہ سبھا کے صدر نشین کو مکتوب بھی روانہ کردیا ہے کہ انہیں بی جے پی میں ضم کرلیا جائے ۔ راجیہ سبھا میں عام آدمی پارٹی کے جملہ 10 ارکان تھے جن میں سات بی جے پی میں شامل ہو رہے ہیں ۔ ایسے میں دوتہائی ارکان کی شمولیت سے قانون انحراف کی خلاف ورزی نہیں ہوتی ۔ راگھو چڈھا گذشتہ کچھ عرصہ سے اس طرح کی بیان بازیاں کر رہے تھے جن سے عام آدمی پارٹی مطمئن نہیں تھی ۔ چڈھا ائرپورٹ کینٹین میں سموسوں کی قیمت ‘ موبائیل کمپنیوں کے پری پیڈ پلان جیسے امور پر بات چیت کر رہے تھے ۔ عام آدمی پارٹی کا کہنا تھا کہ انہیں بی جے پی اور وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف مسائل اٹھانے کی ہدایت دی گئی تھی تاہم وہ ایسا نہیں کر رہے تھے بلکہ ان پر مکمل خاموشی اختیار کئے ہوئے تھے ۔ اسی وجہ سے عام آدمی پارٹی نے انہیںر اجیہ سبھا میں اظہار خیال کا موقع کم دینے کا فیصلہ کیا تھا ۔ عام آدمی پارٹی لگاتار یہ دعوی کر رہی تھی کہ چڈھا بی جے پی میں شامل ہوسکتے ہیں اور آج انہوں نے اپنے اعلان کے ذریعہ عام آدمی پارٹی کے شبہات کو درست ثابت کردیا ۔ بی جے پی پنجاب میں آئندہ اسمبلی انتخابا ت کی تیاری کر رہی ہے اور وہاں اس نے شرومنی اکالی دل سے بھی اتحاد نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اسی وجہ سے عام آدمی پارٹی کے قائدین کو رجھانے کی کوشش کی گئی اور اس میں وہ کامیاب بھی رہی اور عام آدمی پارٹی کے قائدین کو اپنی صفوں میںشامل کرلیا ۔
عام آدمی پارٹی نے ہی راگھو چڈھا کوسیاسی شناخت دی تھی ۔ ان کی قابلیت اور صلاحیتوں کا عملی طور پر اعتراف کرتے ہوئے انہیں موقع دیا تھا ۔ راجیہ سبھا کیلئے انہیں روانہ کیا تھا ۔ اسی طرح ہربھجن سنگھ کو بھی راجیہ سبھا بھیجا گیا تھا ۔ سواتی مالیوال کو عوامی خدمت کا موقع دیا گیا تھا ۔ دوسرے جو ارکان انحراف کرنے والے ہیں انہیں بھی عام آدمی پارٹی نے ہی موقع دے کر روانہ کیا تھا ۔ ان تمام نے تاہم پارٹی کے ساتھ وفادار نہ رہتے ہوئے بی جے پی کا دامن تھام لیا ہے ۔ جہاں تک راگھو چڈھا کا سوال ہے تو انہیں جو کچھ بھی سیاسی شناخت اور مقبولیت حاصل ہوئی تھی وہ عام آدمی پارٹی کی ہی مرہون منت ہے ۔ سیاسی زندگی میں اتار چڑھاو آتے رہتے ہیں اور پارٹیاں کبھی اقتدار پر تو کبھی اپوزیشن میں رہتی ہیں۔ ہر نشیب و فراز میں پارٹی اور اس کے نظریات کا ساتھ دینے والے قائدین کی ہی عوام میں عزت رہتی ہے اور ان کا احترام کیا جاتا ہے ۔ راگھو چڈھا جس طرح سے سنجیدہ لیڈر کی شبیہہ بنانے کی کوشش کر رہے تھے بی جے پی میں شمولیت کے فیصلے نے اس شبیہہ کو متاثر کرکے رکھ دیا ہے ۔ جس پارٹی نے انہیں سیاسی شناخت دی تھی اس کے دہلی میں اقتدار سے بیدخل ہوجانے کے بعد انہوں نے پارٹی کے ساتھ دھوکہ کیا ہے ۔ ان کا فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ کوئی سنجیدہ ذہن سیاستدان نہیں بلکہ موقع پرست ہیں اور انہوں نے مشکل وقت میں پارٹی کا ساتھ چھوڑ کر اقتدار کے گلیاروں کو ترجیح دی ہے اور وہ پنجاب میں بی جے پی کا چہرہ بننا چاہتے ہیں۔
بی جے پی کیلئے پنجاب میں اسمبلی انتخابات کا تنہا سامنا کرنا تقریبا نا ممکن تھا ۔ اس کے پاس کوئی عوامی چہرہ نہیں تھا جسے عوام میں بھیجا جاسکے ۔ بی جے پی نے عام آدمی پارٹی کے ان چہروں پر ڈورے ڈالے اور ان تمام نے بی جے پی کی کوششوں کو قبول بھی کیا ۔بی جے پی ان تمام کو پنجاب میں استعمال کرنا چاہتی تھی اور ان تمام نے موقع پرستی کی سیاست کرتے ہوئے بی جے پی کا دامن تھام لیا جبکہ ان تمام کا سیاسی وجود بی جے پی کی مخالفت کی وجہ سے ہی مستحکم ہوا تھا ۔ بی جے پی کا دامن تھام کر اس کے ساتھ جا ملنے سے ان کی سیاسی شبیہہ متاثر ہوئی ہے اور ان کا سیاسی مستقبل بھی داو پر لگ سکتا ہے ۔