عاملین زکواۃ کی طرز پر رقم کی وصولی کی شکایت ، محکمہ پولیس کی خفیہ ایجنسیاں چوکس
حیدرآباد۔14۔مارچ(سیاست نیوز) دونوں شہروں حیدرآبادو سکندرآباد کے علاوہ ریاست کے کئی شہری اضلاع بالخصوص سرحدی اضلاع میں ماہ رمضان المبارک کے دوران گھوم کر چندہ وصول کرنے والے بیرون ریاست شہریوں پر محکمہ پولیس کی جانب سے خصوصی نظر رکھی جا رہی ہے کیونکہ گذشتہ برسوں کے دوران بعض افراد کی جانب سے معصوم بچوں کو ساتھ رکھتے ہوئے ان کے ذریعہ چندہ وصول کروانے کی شکایات موصول ہوئی تھیں جس کے سبب پولیس کوحرکت میں آنا پڑا تھا۔بتایاجاتا ہے کہ پڑوسی ریاستوں سے تعلق رکھنے والی ٹولیوں کی جانب سے جاری اس سرگرمیوں کو کچلنے کے لئے جاری اقدامات کے طور پر محکمہ پولیس کے خفیہ ایجنسیوں نے ان ٹولیوں پر کڑی نظر رکھنی شروع کردی ہے۔محکمہ پولیس کی جانب سے اس بات کا جائزہ لیا جا رہاہے کہ جو بیرون ریاست دینی مدارس کے سفراء ماہ رمضان المبارک کے دوران شہر کا رخ کر رہے ہیں آیا وہ حقیقی مدارس سے تعلق رکھتے ہیں یا نہیں ؟ پولیس عہدیداروں کا کہنا ہے کہ بعض لوگ عاملین زکواۃ کی طرح گھوم پھر کر زکواۃ جمع کر رہے ہیں لیکن ان کے متعلق شکایات موصول ہو رہی ہیں کہ وہ مدارس کا حصہ نہیں ہیں بلکہ عوام کو گمراہ کر رہے ہیںاسی لئے ایسے افراد پر خصوصی نظر رکھتے ہوئے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق مساجد کے باہر یا مساجد کے صحن میں معصوم بچو ںسے چادر پکڑواکر ٹھہرانے والوں کے خلاف بھی کاروائی کی جائے گی کیونکہ معصوم بچوں سے اس طرح کی خدمات حاصل کی جانا اچھی بات نہیں ہے بلکہ قانونی اعتبار سے بچوں کو چندہ وصولی کے اس عمل میں اس طرح شامل کیا جانا انہیں بھیک مانگنے پر اکسانے کے مترادف ہے۔دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد کے کئی علاقوں میں ماہ رمضان المبارک کے دوران ملک کی شمالی ریاستوں کے علاوہ مختلف حصوں سے دینی مدارس کے سفراء و عاملین گھوم کر اپنے مدارس و مساجد کے استحکام کیلئے زکوۃ ‘ چندہ و عطیات وصول کرتے ہیں لیکن ان میں بعض دھوکہ بازوں کی موجودگی نے عوام کو ان کے متعلق متنفر کردیا جس کے سبب ان عاملین و سفراء کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے لیکن اس کے باوجو دھوکہ بازوں کی کمی نہیں ہے جو معصوم بچوں کا سہارا لیکر مخیر حضرات کو اپنی جانب متوجہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔محکمہ پولیس کی جانب سے شہر کی بڑی مساجد کے علاوہ تجارتی سرگرمیوں کے اہم مراکز پر نظر رکھتے ہوئے ایسے افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے ۔باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ماہ رمضان المبارک کے دوران مسلمانوں کی طرح لباس زیب تن کئے ہوئے اور ٹوپی لگاتے ہوئے غیر مسلم مرد اور برقعہ میں غیر مسلم گداگروں کی بھی بڑی تعداد شہر حیدرآباد کا رخ کرچکی ہے اور وہ بھی عام مسلمانوں کی ہمدردی حاصل کرتے ہوئے گداگری کے ذریعہ عوام کی جانب سے دی جانے والی دولت کو لوٹ رہے ہیں۔ ماہ رمضان المبارک کے دوران مسلمانوں کی فراخدلی سے فائدہ اٹھانے کے لئے کوئی بھی گداگری کرسکتا ہے لیکن زکواۃ اور صدقات دینے والوں کو بھی یہ دیکھنا چاہئے کہ کیا وہ گداگر جو پیشہ ور ہیں ان کی زکواۃ یا صدقات کے ذریعہ مدد کی جاسکتی ہے !۔3