ہر شہری 1.21 لاکھ روپئے کا مقروض، اسمبلی میں پیش کردہ بجٹ میں حکومت کی وضاحت
حیدرآباد۔7۔ فروری (سیاست نیوز) ریاستی حکومت کا آئندہ مالیاتی سال حاصل کئے جانے والے نئے قرضوں کے ساتھ جملہ قرض 4,86,302.61 لاکھ کروڑ روپئے ہوجائے گا جس کا بجٹ میں اعلان کیا گیا ہے ۔ (ایف آر بی ایم) کے حدود میں حکومت کی جانب سے راست لئے جانے والے قرض کو بجٹ میں پیش کیا گیا ہے ۔ یہ سال (2022-23) میں 3,22,993 لاکھ کروڑ تھے۔ سال 2023-24 میں 35 ہزار کرور کا اضافی قرض لیا جارہا ہے جو بڑھ کر 3,57,059 لاکھ کروڑ تک پہنچ رہا ہے ۔ اس کے علاوہ پبلک سیکٹرس کے مختلف اداروں کو قرض حاص کرنے حکومت کی جانب سے دی جانے والی ضمانت کو شمار کرلیں تو جملہ قرض 4.86 لاکھ کروڑ تک پہنچ جائے گا ۔ اگر آئندہ سال ریاست کی آبادی 4 کروڑ ہونے کا تخمینہ لگایا جائے تو جس سے فی کس قرض 1,21,575 لاکھ ہونے کا اندازہ لگایا جارہا ہے ۔ حکومت نے کہا کہ سال 2020-21 ء کی مجموعی گھریلو پیداوار (جی ایس ڈی پی) میں قرص 25.4 فیصد تھا۔ آئندہ سال گھٹ کر 23.8 فیصد ہونے کی امید کا اظہار کیا ہے ۔ ایف آر بی ایم کے حدود میں محصلہ قرض سال 2020-24 کے دوران 2,44,019 لاکھ کروڑ سے بڑھ کر 3,57,059 لاکھ کروڑ تک بڑھ گئے ہیں جس کی وجہ سے جی ایس ڈی پی کی قدر میں اضافہ ہوئے اور قرض کا تناسب کم دکھائی دے رہا ہے لیکن حاصل کیا گیا قرض چار سال کی مدت میں 2.44 لاکھ کروڑ سے بڑھ کر 3.57 لاکھ کروڑ روپئے تک عوامی شعبوں کے اداروں کی جانب سے لئے گئے قرضوں میں کالیشورم پراجکٹ کمپنی نے 66.854 کروڑ مشن بھاگیرتا نے 23,364.38 کروڑ، اسٹیٹ ہاؤزنگ کارپوریشن 7,435.89 کروڑ پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیاں (ڈسکام) 6,300 کروڑ پاور فینانس کمپنی 2,917 کروڑ اس کے علاوہ اس طرح کے دوسرے ادارے ہیں۔ ریاستی حکومت مختلف ترقیاتی اسکیمات کیلئے ان اداروں کے ذریعہ قرض حاصل کر رہی ہے ۔ ان میں چند اداروں کو اپنے قرضوں کی ادائیگی صرف ان کی اپنی آمدنی سے کرنی ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر ڈسکام برقی بلز سے حاصل ہونے والی آمدنی سے قرضوں کی ادائیگی کرتی ہے ۔ حکومت نے موجودہ مالیاتی سال 2022-23 ء کے لئے مجموعی ریاستی پیداوار (جی ایس ڈی پی) کا تخمینہ موجودہ قیمتوں پر 13,27,495 کروڑ روپئے لگایا ہے ۔ ریاست نے گزشتہ سال کے مقابلہ میں 15.6 فیصد کی شرح نمو حاصل کی ہے ۔ حکومت کی جانب سے دی گئی ضمانت سے پبلک سیکٹر کے اداروں نے مزید 1.29,243.61 لاکھ کروڑ روپئے کا قرض حاصل کیا ہے ۔ اگر ان کو شامل کیا جائے گا تو آئندہ سال جملہ قرض 4,86,302 لاکھ کروڑ تک پہنچ جائیں گے۔ن