شریک جرم ذمہ داروں کے خلاف کارروائی پر رحمت بیگ کا اصرار؟

   

ہم تو ڈوبے ہیں صنم ……….
حیدرآباد۔25۔ستمبر۔(سیاست نیوز) رحمت بیگ اپنے افراد خاندان کے ساتھ شمالی ہند میں مقیم ہیں اور وہ مذاکرات کی تکمیل تک مستعفی ہونے آمادہ نہیں ہیں۔ بیگ کو مستعفی ہونے کی ہدایت کو ایک ماہ ہونے والا ہے لیکن انہوں نے قانون ساز کونسل کی رکنیت سے تاحال استعفیٰ نہیں دیا ہے۔ مستعفی ہونے سے انکار کے باوجود مجلسی قیادت کی جنسی ہراسانی معاملہ میں خاموشی پر مختلف گوشوں سے سوال اٹھائے جانے لگے ہیں ۔ کہا جارہا ہے کہ اگر صدر مجلس بیرسٹر اسدالدین اویسی رحمت بیگ کا نام لینا بھی پسند نہیں کر رہے ہیں تو کم ازکم جس شریک معتمد کے ذریعہ جماعت سے اخراج اور انہیں مستعفی ہونے ہدایت دی گئی ان کے ذریعہ عوام کو واقف کروائیں کہ آخر انہیں کس وجہ سے پارٹی سے خارج کیا گیا اور مستعفی ہونے کہاگیا !اور واضح ہدایت کے باوجود وہ مستعفی ہونے کیوں تیار نہیں ہیں! ذرائع کے مطابق رحمت بیگ اپنے شریک جرم ذمہ داروں کے خلاف بھی کاروائی کی مانگ کر رہے ہیں ۔ بتایا جاتاہے کہ رحمت بیگ اب اپنے شریک جرم کے متعلق بھی ثبوت و شواہد کا انکشاف کرنے لگے ہیں اور جماعت کے ناقدین کو ثبوت و شواہد پیش کرکے خواہش کر رہے ہیں کہ وہ ان افراد کے خلاف کاروائی کو یقینی بنائیں جو ان کے ہی طرح کے جرائم کے مرتکب ہیں بلکہ مختلف ریاستوں میں ایسی گھناؤنی حرکتوں میں ملوث ہوئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق بعض دیگر قائدین کی گھناؤنی حرکات سے متعلق ثبوت و شواہد گشت کر رہے ہیں جن کے متعلق کہا گیا کہ رحمت بیگ نے ان کے مطالبات کی عدم تکمیل کی بنیاد پر ان کو وائرل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جماعت کے بعض افراد یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ رحمت بیگ کے اخراج کے فیصلہ پر ازسرنو غور کیا جارہا ہے اسی لئے انہیں مستعفی ہونے مجبور کرنے سے گریز کی حکمت عملی اختیار کی جارہی ہے۔ کہا گیا کہ رحمت بیگ نے اسٹیل برج کے افتتاح کی تختی میں ان کا نام شامل نہ کرنے کے معاملہ پر صدرنشین کونسل سے کمشنر بلدیہ کی شکایت کی لیکن اس کی توثیق نہیں ہوسکی۔3