ریاست میں 6 ضمانتوں پر عمل آوری کیلئے تقریباً 68 ہزار کروڑ کی ضرورت

   

ریونت ریڈی حکومت کیلئے چیلنج، ماہرین معاشیات سے سفارشات کی طلبی ،غیر اہم شعبہ جات کے بجٹ میں کمی کی تیاری
حیدرآباد ۔29۔ڈسمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ کی ریونت ریڈی حکومت کے لئے 6 ضمانتوں پر عمل آوری کسی چیلنج سے کم نہیں ہے۔ حکومت نے ضمانتوں کے تحت کئے گئے وعدوں سے استفادہ کے لئے ریاست بھر میں عوام سے درخواستیں طلب کرنے کا آغاز کیا ہے ۔ پہلے دن تقریباً 8 لاکھ درخواستیں داخل کی گئیں جبکہ 6 جنوری آخری تاریخ ہے۔ حکومت نے درخواستوں کے ادخال کے سلسلہ میں عوام کو سخت شرائط کے بجائے کئی امور میں رعایت دی ہے تاکہ درخواستوں کے ادخال کے مرحلہ میں عوامی ناراضگی کا سامنا نہ کرنے پڑے ۔ باوثوق ذرائع کے مطابق چیف منسٹر ریونت ریڈی نے محکمہ فینانس کو ہدایت دی ہے کہ 6 ضمانتوں پر عمل آوری کیلئے درکار بجٹ کا تخمینہ تیار کریں تاکہ دیگر شعبہ جات کے بجٹ میں تخفیف کرتے ہوئے 6 ضمانتوں پر عمل آوری کی جاسکے ۔ ذرائع کے مطابق حکومت کو 6 ضمانتوں پر عمل اوری کے لئے تقریباً 68653 کروڑ کی ضرورت پڑے گی اور ریاست کی کمزور معاشی صورتحال میں اس قدر رقم کا انتظام کرنا آسان نہیں ہوگا۔ حکومت عوام پر اضافی بوجھ عائد کئے بغیر ہی ضمانتوں پر عمل آوری کی منصوبہ بندی کر رہی ہے ۔ ریزرو بینک آف انڈیا کے سابق گورنر رگھورام راجن نے حال ہی میں چیف منسٹر سے ملاقات کے بعد 6 ضمانتوں پر عمل آوری کے سلسلہ میں بعض تجاویز پیش کی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ رگھو رام راجن نے غیر اہم شعبہ جات کے بجٹ میں تخفیف کا مشورہ دیا ہے ، اس کے علاوہ مختلف پراجکٹس کے تعمیری کاموں کے لئے مختص کردہ رقومات کو فلاحی اسکیمات کے لئے منتقل کیا جاسکتا ہے ۔ رگھورام راجن نے حکومت کو صلاح کار کے طورپر آمدنی میں اضافہ اور معیشت کے استحکام کے لئے رپورٹ پیش کرنے سے اتفاق کیا ہے ۔ ذرائع کے مطابق حکومت نے کسانوں کو دو لاکھ روپئے قرض کی معافی کا جو وعدہ کیا ہے ، اس کے لئے 19191 کروڑ کی ضرورت پڑے گی۔ غریبوں کو 200 یونٹ تک برقی کی سربراہی کیلئے 2500 کروڑ کا اضافی بوجھ ہوگا۔ غریب خاندانوں کو 500 روپئے میں گیس سلینڈر کی سربراہی سے حکومت کو 3199 کروڑ کی سبسیڈی کا بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔ اندراماں ہاؤزنگ کے تحت زمین رکھنے والے غریبوں کو مکانات کی تعمیر کیلئے پانچ لاکھ روپئے سے متعلق اسکیم پر 9202 کروڑ کا خرچ آئے گا۔ دلت بندھو اسکیم کے لئے سالانہ 40,000 کروڑ کا خرچ ہوگا۔ خواتین کو 2500 روپئے امداد کی اسکیم پر سالانہ 24,000 کروڑ کا خرچ آسکتاہے۔ یہ اخراجات مہا لکشمی اسکیم کے تحت خواتین کو آر ٹی سی بسوں میں مفت سفر کی سہولت اور راجیو آروگیہ شری کے تحت 10 لاکھ روپئے تک مفت علاج کے لئے درکار بجٹ کے علاوہ ہے۔ محکمہ فینانس نے چیف منسٹر کو فلاحی اسکیمات کے لئے جو تخمینہ پیش کیا ہے، اس کے تحت حکومت کو کسی رکاوٹ کے بغیر وعدوں پر عمل کرنے کیلئے سالانہ 70,000 کروڑ کی ضرورت پڑے گی۔ حکومت نے ماہرین معاشیات کو ذمہ داری دی ہے کہ وہ ایسے شعبہ جات کی نشاندہی کریں جہاں سالانہ بجٹ میں کمی کی گنجائش رہے گی۔ ریاست بھر میں سرکاری اسکیمات کیلئے درخواستوں کے ادخال کا جو رجحان ہے ، وہ عہدیداروں کے لئے الجھن کا باعث بن چکا ہے۔ عوام شرائط کے بارے میں معلومات کئے بغیر ہی درخواستیں داخل کر رہے ہیں اور جب عہدیدار درخواستوں کی جانچ کریں گے ، اس وقت عوام کو مشکلات پیدا ہوں گی کیونکہ حکومت نے عہدیداروں کی ٹیموں کے ذریعہ درخواست گزاروں کی شخصی معلومات گھر پہنچ کر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ معاشی صورتحال کی بہتری کی صورت میں درخواستیں مسترد کردی جائیں گی۔ سفید راشن کارڈ کی اجرائی کے معاملہ میں بھی حکومت احتیاط سے کام لے رہی ہے۔ وائیٹ راشن کارڈ کے مستحق افراد کو کارڈس جاری کرنے کے بعد حکومت راشن کارڈ پر سربراہ کی جانے والی اشیاء کا خلاصہ کرے گی۔ ریونت ریڈی کو چیف منسٹر کے عہدہ کی ذمہ داری قبول کئے ایک ماہ بھی مکمل نہیں ہوا لیکن ریاست کی معاشی صورتحال نے 6 ضمانتوں پر عمل آوری کے سلسلہ میں چیلنج کی صورتحال پیدا کردی ہے ۔1