ریاض میں حوثی حملہ میں کاماریڈی کے زخمی شیخ سید جانبر نہ ہوسکے

   

حیدرآباد ۔ 4 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز ) سعودی عرب کے ریاض انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر 10 اکتوبر کو حوثی حملے میں زخمی ہونے والے تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے چالیس سالہ شیخ سید علاج کے دوران جانبر نہ ہو سکے۔ 10 اکتوبر کے حملے میں زخمی شیخ سید کو، جن کا تعلق کاماریڈی ضلع سے بتایا جاتا ہے ، علاج کے لیے ریاض کے ایک اسپتال میں شریک کیا گیا تھا۔ حوثی باغیوں کے حملے میں دو ہندوستانی زخمی ہوئے تھے۔ اطلاع کے مطابق سفارت خانے کے حکام کی جانب سے ریاض میں شیخ سید کی تدفین کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ وہ گزشتہ ایک دہے سے ریاض میں ملازمت کر رہے تھے۔ کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ ریاض میں وہ اسٹاربکس کے لیے کام کر رہے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ ان کے افرادِ خاندان نے ریاض میں تدفین کی اجازت دے دی ہے۔ کاماریڈی کی سیلانی بابا کالونی سے تعلق رکھنے والے سید کی اہلیہ، دو دختر اور ایک فرزند ہیں۔ یہ تمام کاماریڈی میں مقیم ہیں۔ ان کے دو بھائی سعودی عرب میں ملازمت کر رہے ہیں۔ سعودی عرب میں ہندوستانی سفارت خانے کی جانب سے سوشل میڈیا پر سید کے انتقال کی اطلاع دی گئی۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر سفارت خانے کی جانب سے لکھا گیا کہ دس اکتوبر کو ریاض ایئرپورٹ پر حملے کے دوران زخمی سید، جن کا آئی سی یو میں علاج جاری تھا، جانبر نہ ہو سکے۔ سفارت خانے نے پسماندگان سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ اسی حملے میں ہلاک ہونے والے مہدی پٹنم سے تعلق رکھنے والے سافٹ ویئر پروفیشنل محمد یوسف علی کی ریاض میں تدفین کی گئی۔ 46 سالہ محمد یوسف علی اور شیخ سید حوثی باغیوں کے حملے میں زخمی ہوئے تھے۔ اس حملے میں دونوں زخمی ہندوستانی فوت ہو چکے ہیں۔1