مودی جی ‘ کوئی بھی اسٹیج اور مقام چن لیجئے ‘ مجھ سے بحث کیجئے ‘ڈریئے نہیں

,

   

٭ مودی ‘ موہن بھاگوت سمیت جس کو چاہیں مباحث کا جج بنالیں
٭ میڈیا اور نوجوانوں کی موجودگی میں مباحث کئے جانے چاہئیں
٭ امریکہ سے معاہدہ جلد بازی میں کیوں کیا گیا ‘ جوا ب دیا جائے
٭ کابینہ کو اطلاع کیوں نہیں دی گئی ؟‘ ایپسٹین فائل کا کیا ہے ؟
٭ سوشیل میڈیا پر قائد اپوزیشن لوک سبھا راہول گاندھی کے سوالات

نئی دہلی 3 نومبر ( ایجنسیز ) وزیر اعظم نریندر مودی کو کھلے مباحث کیلئے چیلنج کرنے کے ایک دن بعد قائد اپوزیشن راہول گاندھی نے آج ایک بار پھر بیرونی مدد کے الزام پر مباحث کا چیلنج کیا ۔ انہوں نے کہا کہ وہ دیگر مسائل کے ساتھ ملک کے معاشی نظام پر مباحث کیلئے بھی تیار ہیں۔ راہول گاندھی نے وزیر اعظم مودی سے کہا کہ وہ ان کھلے مباحث کیلئے کسی بھی مقام کا تعین کرسکتے ہیں۔ راہول گاندھی کی چیلنج کے فوری بعد وزیر داخلہ امیت شاہ نے رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پارلیمنٹ میں کسی بھی مسئلہ پر مباحث کیلئے تیار ہے اور راہول گاندھی کو چیلنج کیا کہ وہ اس میں حصہ لیں۔ راہول گاندھی نے سوشیل میڈیا پر کہا کہ بحث میڈیا اور نوجوانوں کی موجودگی میں ہونی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی جسے چاہیں مباحث کیلئے جج منتخب کرسکتے ہیں۔ وہ چاہیں تو آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کو بھی جج بناسکتے ہیں ۔ راہول گاندھی نے اپنے آج کے پوسٹ میں کہا کہ اب24 گھنٹے ہوگئے ہیں مودی جی ۔ میں نے آپ کو چیلنج کیا ہے ۔ آپ کہتے ہیں کہ اپوزیشن قوم مخالف ہے ۔ کوئی بھی اسٹیج چن لیجئے ۔ کوئی بھی مقام طئے کرلیجئے اور مجھ سے بحث کیجئے ۔ کون قوم دشمن ہے ۔ بیرونی طاقتوں سے کس کے تعلقات ہیں اور کس طرح کے تعلقات ہیں۔ جتنا جلد ہوسکے ایسا کرلیجئے ۔ ڈرئے نہیں ۔ راہول گاندھی نے کہا کہ مباحث ملک کے معاشی نظام پر اور معاشی ڈھانچہ پر ہونے چاہئیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ امریکہ کے ساتھ معاہدہ کن بنیادوں پر کیا گیا ۔ اسے جلد بازی میں قطعیت کیوں دی گئی اور مبینہ طور پر کابینہ کو مطلع کیوں نہیں کیا گیا ؟ ۔ انہوں نے وزیر اعظم سے سوال کیا کہ آپ نے یہ فیصلہ تنہا کیوں کیا ؟ ۔ کابینہ کو کیوں مطلع نہیں کیا گیا اور کیوں گوتم اڈانی کا کیس بند کیا گیا اور ایپسٹین فائل کا مسلئہ کیا ہے ۔ راہول گاندھی نے ان کے خلاف دائر ہتک عزت کے مقدمہ کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ وہ جملہ 45 مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ کوئی بھی مقدمہ بیرونی تعلقات سے متعلق ریمارکس پر دائر نہیں کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر وزیر اعظم چاہیں تو اس بار ایسا کرسکتے ہیں۔