بی آر ایس رکن کونسل شراون کا الزام، وعدوں کی تکمیل میں ناکامی
حیدرآباد ۔20 ۔ جولائی (سیاست نیوز) بی آر ایس کے رکن قانون ساز کونسل ڈاکٹر ڈی شراون نے الزام عائد کیا کہ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے انتظامی ناکامیوں کے ذریعہ ریاست کی معیشت کو تباہ کردیا ہے۔ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے شراون نے کہا کہ مالیتی سال کے آغاز کے محض 90 دنوں میں تلنگانہ معاشی بحران کا شکار ہے۔ سی اے جی کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ تلنگانہ حکومت کی معاشی صورتحال ٹھیک نہیں ہے۔ محض 90 دنوں میں 12289 کروڑ کا مالیاتی خسارہ درج کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر ریاست کی معاشی صورتحال میں بہتری کا دعویٰ کر رہے ہیں لیکن بنیادی سطح پر صورتحال مختلف ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2026-27 بجٹ میں حکومت نے منافع بخش بجٹ کا دعویٰ کیا تھا لیکن محض 90 دنوں میں معاشی بحران پیدا ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر ماہ سرکاری خزانہ کو 4000 کروڑ کا نقصان کا سامنا ہے۔ ریونت ریڈی حکومت نے قرض حاصل کرنے کی حد سے تجاوز کرتے ہوئے تین ماہ میں 21919 کروڑ کا قرض حاصل کیا ہے جبکہ ایک سال میں قرض حاصل کرنے کی مدت 58458 کروڑ ہے۔ شراون نے کہا کہ حکومت کی ناکام پالیسیوں کے نتیجہ میں ریاست کو معاشی بحران کا سامنا ہے۔ ریاست میں رئیل اسٹیٹ تجارت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت شراب کی فروخت کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔ شراون نے کہا کہ چیف منسٹر نے ابھی تک 78 مرتبہ نئی دہلی کا دورہ کیا لیکن مرکزی حکومت سے فنڈس کے حصول میں ناکامی ہوئی۔ کانگریس حکومت نے 420 بوگس وعدوں کے ذریعہ عوام کو دھوکہ دیا ہے۔ شراون نے عوام سے اپیل کی کہ وہ وعدوں کی عدم تکمیل پر حکومت سے سوال کریں۔1/k/a/b