لکھنو ۔ اتر پردیش کے شہر لکھنؤ سے ایک حیران کن معاملہ سامنے آیا ہے۔ یہاں ایک بیوی نے اپنے ہی زندہ شوہر کو مردہ قرار دے دیا۔ وہ بھی صرف اس لیے کہ وہ فنانس کمپنی سے قرض لے سکے۔ عورت نے قرض بھی منظور کروا لیا۔ اسے پیسے بھی مل گئے لیکن جلد ہی وہ بے نقاب ہو گئی۔ پولیس نے خاتون کے شوہرکی شکایت پر ایف آئی آر درج کر لی ہے۔ معاملہ تالکوٹہ علاقہ کا ہے۔ کھدرہ کے علاقہ کے رہائشی اظہار احمد کی شادی ایک سال قبل فارینہ بانو سے ہوئی تھی۔ شادی کے فوراً بعد میاں بیوی کے درمیان لڑائیاں شروع ہوگئیں۔ معاملہ اتنا بڑھ گیا کہ مئی 2023 میں فرینہ بانو اپنا سسرال چھوڑکر اپنے گھر چلی گئیں۔ یہاں پھر اس نے ایسا جرم کیا جس کے بارے میں کسی کوکوئی خبر نہ تھی۔ بعد میں اچانک اس کے شوہرکو معلوم ہوا کہ فارینہ نے قرض لینے کے لیے اسے مردہ قرار دے دیا ہے۔ فنانس کمپنی سے جعلی ڈیتھ سرٹیفکیٹ بنا کر قرض لیا گیا ہے۔ شوہر اظہار نے فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی۔ الزام ہے کہ پولیس نے اس وقت مقدمہ درج نہیں کیا۔ بعد ازاں اظہار نے عدالت سے مدد طلب کی۔ عدالت کے حکم کے بعد پولیس نے ملزمہ فارینہ کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔ اس کے علاوہ قرضہ دینے والی فنانس کمپنی کے منیجر کے خلاف بھی مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ فی الحال اس کی تحقیقات جاری ہے۔اس معاملے نے مقامی افراد کو حیران کردیا ہے کہ کس طرح ایک خاتون جوازدواجی مسائل سے پریشان ہے وہ جرم کرسکتی ہے۔پولیس کی جانب سے پہلی شکایت پر مقدمہ درج نہ کرنے پر بھی مایوسی کا اظہار کیا گیا ہے ۔