سرور نگر کے خانگی ہاسپٹل میں گردہ کی فروخت کے اسکام پر حکومت چوکس

   

وزیر صحت نے چار رکنی کمیٹی تشکیل دی، ہاسپٹل مہربند،55 لاکھ روپئے میں گردہ کی خریدی کا انکشاف
حیدرآباد۔/22 جنوری، ( سیاست نیوز) حیدرآباد کے سرورنگر علاقہ میں ایک خانگی ہاسپٹل میں غیرقانونی طور پر گردہ کی پیوند کاری سے متعلق اسکام پر وزیر صحت دامودھر راج نرسمہا نے سخت نوٹ لیتے ہوئے اس معاملہ کی جانچ کیلئے چار رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ ایک خانگی ہاسپٹل میں جو 6 ماہ قبل قائم کیا گیا تھا گردہ کی پیوند کاری کے آپریشن جاری تھے۔ اس معاملہ کے برسر عام ہوتے ہی محکمہ صحت کے عہدیداروں نے چوکسی اختیار کرلی۔ دامودھر راج نرسمہا کی ہدایت پر چار رکنی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ عثمانیہ ہاسپٹل کے سابق سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر ناگیندر کمیٹی کی قیادت کریں گے۔کمیٹی کے ارکان نے خانگی ہاسپٹل کا دورہ کیا اور تفصیلات حاصل کی۔ حکومت کے علاوہ انڈین میڈیکل اسوسی ایشن کو بھی رپورٹ پیش کی جائے گی تاکہ ہاسپٹل کے خلاف کارروائی کی جاسکے۔ دامودر راج نرسمہا نے کہا کہ چار رکنی کمیٹی کی رپورٹ کی بنیاد پر حکومت مزید کارروائی کرے گی۔ ہاسپٹل میں 55 لاکھ روپئے میں ایک گردہ فروخت کرنے کی اطلاعات ہیں۔ حکام نے کل ہاسپٹل پر دھاوا کرتے ہوئے اسے مہربند کردیا ہے۔ ہاسپٹل کے مالک ڈاکٹر سمن کو سرور نگر پولیس نے حراست میں لے لیا۔ گردوں کی پیوند کاری کیلئے درکار قواعد کی خلاف ورزی کی گئی جس پر حکام نے ہاسپٹل کو مہربند کردیا ہے۔ رنگاریڈی ضلع کے میڈیکل اینڈ ہیلت آفیسر وینکٹیشورراؤ کے مطابق ہاسپٹل میں غیرقانونی پیوند کاری کی تفصیلی جانچ کی جارہی ہے۔ مفرور افراد کی گرفتاری کیلئے ڈی سی پی پروین کمار نے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی ہیں۔ ٹاملناڈو سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر پون نے پردیپ نامی ایک شخص کی مدد سے 55 لاکھ روپئے میں ایک گردہ فروخت کیا تھا۔ تلنگانہ حکومت نے اس معاملہ کا سختی سے نوٹ لیتے ہوئے ریاست بھر میں اس طرح کی سرگرمیوں کا پتہ چلانے کی ہدایت دی ہے۔ خانگی ہاسپٹلس میں گردہ کی پیوند کاری آپریشن کی جانچ کی جائے گی۔ ڈائرکٹر میڈیکل ایجوکیشن وانی کے مطابق پورنیما نامی ایک خاتون سے گردہ حاصل کیا گیا اور خاتون نے معاشی پریشانیوں کے سبب گردہ فروخت کرنے سے اتفاق کیا۔ انہوں نے کہا کہ دیگر دو خواتین جن سے گردہ حاصل کیا گیا وہ غریب خاندانوں سے تعلق رکھتی ہیں۔ گردہ کی پیوند کاری کیلئے حکومت سے اجازت کا حصول ضروری ہے۔ سرورنگر کی ڈاکٹرس کالونی میں الاکا نندا ہاسپٹل میں اس ریاکٹ کا انکشاف ہوا۔1