سرکاری اراضی پر کلکٹر کی جانب سے این او سی کی اجرائی

   

ہائی کورٹ نے چیف سکریٹری سے 10 مارچ تک وضاحت طلب کی
حیدرآباد۔/5 مارچ، ( سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ کے جسٹس سی وی بھاسکر ریڈی نے سرکاری اراضی کے ایک حصہ کو ضلع کلکٹر رنگاریڈی کی جانب سے نوآبجیکشن سرٹیفکیٹ جاری کرنے کے معاملہ میں چیف سکریٹری سے وضاحت طلب کی ہے۔ جسٹس سی وی بھاسکر ریڈی نے این او سی کی اجرائی کے خلاف دائر کی گئی درخواست پر چیف سکریٹری کی جانب سے حلفنامہ داخل کرنے میں ناکامی پر برہمی کا اظہار کیا۔ عدالت نے انتباہ دیا کہ اگر10 مارچ تک جوابی حلفنامہ داخل نہیں کیا گیا تو اس معاملہ کو سی بی آئی یا انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ سے رجوع کرتے ہوئے رپورٹ طلب کی جائے گی۔ جسٹس بھاسکر ریڈی نے 10 مارچ کو آئندہ سماعت مقرر کی ہے۔ درخواست گذار نے الزام عائد کیا کہ کلکٹر رنگاریڈی ضلع نے سرکاری اراضی کے ایک مخصوص حصہ کیلئے این او سی جاری کیا۔ کلکٹر نے 2023 میں رائے درگم میں واقع پرشانتی ہلز میں واقع 200 مربع گز اراضی کیلئے این او سی جاری کیا تھا۔ درخواست گذار نے کہا کہ ضلع کلکٹر کو این او سی جاری کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے اور خاص طور پر ایسے معاملات میں جس میں گورنمنٹ کا کوئی مفاد وابستہ نہیں۔ شکایت کی گئی کہ کلکٹر نے مناسب جانچ کے بغیر ہی این او سی جاری کردیا۔ جسٹس بھاسکر ریڈی نے اس معاملہ میں چیف سکریٹری سے وضاحت طلب کرتے ہوئے نوٹس جاری کی تھی۔ چیف سکریٹری سے دریافت کیا گیا کہ آیا ضلع کلکٹر کو این او سی کی اجرائی کا اختیار حاصل ہے یا نہیں۔ واضح رہے کہ علاقہ میں موجود 25 ایکر سرکاری اراضی کو جو سروے نمبر 66/2 کے تحت موجود ہے اسے سرکاری اراضی قرار دیا گیا ہے تاہم ضلع کلکٹر نے 9 ستمبر 2023 کو 25 ایکر اراضی میں 200 مربع گز کیلئے این او سی جاری کیا جس پر ہائی کورٹ نے بھی برہمی کا اظہار کیا۔1