حیدرآباد۔24۔اگسٹ (سیاست نیوز) تلنگانہ انسانی حقوق کمیشن کے صدرنشین ڈاکٹر جسٹس شمیم اختر نے ریاست کے سرکاری اسکولوں میں بنیادی سہولتوں اور انفراسٹرکچر کی کمی پر محکمہ تعلیم کو فوری کارروائی کے احکامات جاری کئے۔ کمیشن نے اس سلسلہ میں اخبارات میں شائع شدہ رپورٹ کا جائزہ لیا جس میں کہا گیا ہے کہ سرکاری اسکولوں میں سہولتوں کی کمی کے باعث طلبہ کو درختوں کے نیچے کلاسس کا اہتمام کرنا پڑ رہا ہے ۔ کمیشن نے عادل آباد ، جنگاؤں ، نلگنڈہ اور سوریا پیٹ اضلاع کے حکام سے اس سلسلہ میں رپورٹ طلب کی۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ کئی سرکاری اسکولس انفراسٹرکچر سہولتوں سے محروم ہیں۔ کلاس رومس کی حالت ابتر ہے اور ٹائلٹس کی سہولت بھی دستیاب نہیں۔ نلگنڈہ ضلع میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشنل آفیسر نے مختلف مواضعات کا دورہ کیا اور بتایا کہ حالیہ شدید بارش کے نتیجہ میں عمارتوں کو نقصان پہنچا۔ کمیشن نے تعلیمی اداروں میں بہتر سہولتوں کی فراہمی کی ہدایت دی اور کہا کہ قانون حق تعلیم کے تحت طلبہ کو بہتر تعلیمی ماحول فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ کمیشن نے پرنسپل سکریٹری محکمہ اسکولی تعلیم کو تمام اضلاع سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے ضروری اقدامات کی ہدایت دی۔1/K/i
جسٹس شمیم اختر نے طلبہ کیلئے محفوظ کلاس رومس کی فراہمی اور ٹائلٹس کا فوری انتظام کرنے کی ہدایت دی ۔ پرنسپل سکریٹری محکمہ تعلیم کو کمیشن کی سفارشات پر اندرون 6 ماہ عمل آوری کی ہدایت دی گئی۔1/k