اسمبلی میں قانون سازی کرنے کا مطالبہ، بی سی طبقات کو گمراہ کرنے کا الزام
حیدرآباد ۔ 17 فبروری (سیاست نیوز) بی آر ایس کی رکن قانون ساز کونسل کے کویتا نے حکومت کی جانب سے ذات پات کی مردم شماری کرانے کے فیصلے کو مگرمچھ کے آنسو قرار دیتے ہوئے کہا کہ قرارداد کو فوری قانونی موقف عطا کرنے کا مطالبہ کیا۔ آج اپنی قیامگاہ پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کویتا نے کہا کہ بی سی طبقات کی فلاح و بہبود کیلئے کانگریس پارٹی سنجیدہ نہیں ہے۔ اسمبلی کے اجلاس میں مردم شماری کی قرارداد پر قانون سازی کرنے اور ساتھ ہی بی جے پی سب پلان کو بھی قانونی موقف عطا کرنے کی اپیل کی۔ حکومت نے عجلت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسمبلی میں ذات پات کی مردم شماری کیلئے قرارداد منظور کرالیا لیکن مردم شماری کب تک مکمل کی جائے گی اس کا وقت مقرر نہیں کیا گیا۔ یہ عمل کیسے مکمل کیا جائے گا اس کی بھی تفصیلات پیش نہیں کی گئی۔ بی سی طبقات کو گمراہ کرنے کیلئے یہ قرارداد پیش کی گئی ہے۔ کویتا نے اس قرارداد کو سر اور دم نہ رہنے والی قرارداد ہونے کا دعویٰ کیا حکومت بی سی طبقات سے وضاحت کریں۔ بی آر ایس کی رکن قانون ساز کونسل نے کہا کہ ذات پات کی مردم شماری سے قبل بہار اور کرناٹک میں قانون سازی کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس مخالف بی سی تاریخ رکھتی ہے۔ منڈل کمیشن کے وقت راجیو گاندھی نے پارلیمنٹ میں بی سی طبقات کی مخالفت میں بات کی تھی۔ سال 2011ء میں یو پی اے کے دورحکومت میں ذات پات پر کی گئی مردم شماری کی رپورٹ کیوں منظرعام پر نہیں لائی گئی کانگریس سے استفسار کیا کویتا نے کہا کہ راہول گاندھی غیرذمہ دارانہ باتیں کررہے ہیں۔2