ریاض ۔ 21 اپریل (ایجنسیز) سعودی عرب نے ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ فلسطینی عوام اور ان کے قومی اداروں کی مالی اور سیاسی حمایت جاری رکھے گا۔اس کے ساتھ ہی سعودیہ نے اسرائیل کی جانب سے روکے گئے فلسطینی ٹیکس محصولات کی فوری اور بغیر کسی شرط کے رہائی پر زور دیا ہے۔مملکت نے فلسطینی وزیرِاعظم محمد مصطفیٰ کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ نہایت مشکل حالات میں ایک حقیقت پسندانہ اصلاحاتی ایجنڈا آگے بڑھا رہے ہیں۔اس کے ساتھ یہ بھی واضح کیا گیا کہ فلسطینی حکومت کی غزہ واپسی حقیقی فلسطینی اتحاد کی بنیاد پر ہونی چاہیے اور اس اصول کے تحت کہ غزہ کو مغربی کنارے (بشمول مشرقی یروشلم) سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔مزید یہ کہ یہ عمل فلسطینی قیادت میں، مکمل خودمختاری کے احترام کے ساتھ اور بین الاقوامی تعاون کی مدد سے ہونا چاہیے، نہ کہ اس کی جگہ لے کر۔یہ مؤقف بیلجیم کے دارالحکومت برسلز میں فلسطین کی بین الاقوامی معاونت کمیٹی (AHLC) کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں سعودی عرب کی شرکت کے دوران سامنے آیا، جہاں مملکت کی نمائندگی وزارتِ خارجہ کی سینئر سفارتکار ڈاکٹر منال بنت حسن رضوان نے کی۔ڈاکٹر منال رضوان نے کہا کہ گزشتہ تین دہائیوں کے تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اوسلو عمل کی اصلاح ضروری ہے اور بار بار کے بحرانوں کے انتظام سے نکل کر ایک قابلِ اعتماد اور ناقابلِ واپسی امن کے راستے کی طرف بڑھنا ہوگا۔انہوں نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 اور جامع امن منصوبے پر مکمل حمایت کا بھی اعادہ کیا۔انہوں نے مزید وضاحت کی کہ یہ دونوں فریم ورک ایک منظم حکمتِ عملی فراہم کرتے ہیں، جو اوسلو کے بعد کے تجربات کو سمیٹتے ہوئے انسانی امداد، سیکیورٹی، حکمرانی اور سیاسی پیش رفت کو ایک دوسرے سے جڑا ہوا قرار دیتے ہیں، جنہیں الگ الگ نہیں دیکھا جا سکتا۔ان کے مطابق ”بورڈ آف پیس” (BoP) اس نظام کا ایک مرکزی اور ناگزیر حصہ ہے اور سعودی عرب اسے سیاسی، سیکیورٹی، انسانی اور بحالی کے اقدامات کو یکجا کرنے کیلئے ایک بنیادی پلیٹ فارم سمجھتا ہے۔انہوں نے مغربی کنارے کی صورتحال کو بھی انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ بڑھتا ہوا تشدد، بستیوں کی توسیع اور یکطرفہ اقدامات دو ریاستی حل کی بنیادوں کو تیزی سے کمزور کر رہے ہیں۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مغربی کنارے میں فلسطینی شہریوں کا تحفظ کوئی ثانوی معاملہ نہیں بلکہ پائیدار استحکام کی کسی بھی سنجیدہ حکمتِ عملی کا بنیادی جزو ہے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ 1967ء کی سرحدوں پر ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو، کوئی ثانوی آپشن نہیں بلکہ دیرپا امن کیلئے ایک لازمی شرط ہے۔