مودی حکومت اڈانی کو فائدہ پہونچانے 84 ہزار کروڑ روپئے فراہم کر رہی ہے ۔ سرکاری کمپنی کو نظر انداز کرنے کا الزام
نئی دہلی 31 اگست (یو این آئی) کانگریس نے کہا کہ حکومت 84,084 کروڑ روپے کی ‘سمدر منتھن’ اسکیم کا براہِ راست فائدہ اڈانی ۔ ویلسپن گروپ کو پہنچانا چاہتی ہے ، اس لیے تیل اور گیس کی تلاش کیلئے یہ رقم نجی کمپنی کی بجائے عوامی شعبے کی او این جی سی کو دی جانی چاہیے ۔ کانگریس ترجمان شکتی سنگھ گوہل نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ‘سمدر منتھن’ اسکیم کے تحت سمندر میں تیل اور گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں کو ڈرلنگ لاگت کا 50 فیصد تک سرکاری امداد دی جانی ہے ۔ انہوں نے سوال کیا کہ جب او این جی سی جیسی عوامی شعبے کی کمپنی موجود ہے تو خانگی کمپنیوں کو سرکاری فنڈز کیوں دیے جا رہے ہیں۔ گوہل نے کہا کہ سمندر میں تیل و گیس کی تلاش کیلئے بلاکس حاصل کرنے اور ماحولیاتی منظوری سمیت کئی مراحل سے گزرنا پڑتا ہے ، لیکن اڈانی گروپ سے جڑے تین بلاکس اس کیلئے پہلے سے ہی تیار ہیں۔ اس سے واضح ہے کہ اسکیم کا فائدہ اڈانی ۔ ویلسپن گروپ کو دیا جا رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ 2005 میں اڈانی گروپ اور ویلسپن نے تیل و گیس کی تلاش کیلئے ایک مشترکہ منصوبہ بنایا تھا، جس میں اڈانی گروپ کے 65 فیصد اور ویلسپن کے 35 فیصد حصص ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ کمپنی خسارہ میں چل رہی ہے اور ‘سمدر منتھن’ اسکیم سے اسے فائدہ پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔کانگریس رہنما نے گجرات میں نریندر مودی کی بطور چیف منسٹر مدت کے دوران تیل اور گیس کی تلاش کیلئے خرچ ہوئے تقریباً 27,000 کروڑ کا ذکر کرکے کہا کہ کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل رپورٹ میں اس معاملے میں سنگین سوالات اٹھائے گئے تھے ۔ انہوں نے گجرات اسٹیٹ پیٹرولیم کارپوریشن سے جڑی کیگ رپورٹ پر عدالتی جانچ کا بھی مطالبہ کیا ہے ۔مسٹر گوہل نے ویلسپن گروپ کی جانب سے الیکٹورل بانڈز کے ذریعے بی جے پی کو 10 کروڑ روپے دیے جانے اور اڈانی گروپ سے جڑے منصوبوں کا ذکر کرکے حکومت پر صنعت کار کو فائدہ پہنچانے کا الزام لگایا ہے ۔ انہوں نے حکومت سے گزشتہ برسوں میں ملک میں دستیاب تیل و گیس کی مقدار میں کمی پر سوال کیا اور کہا کہ جب ملک کے نوجوان بیروزگار ہیں اور کسان پریشان ہیں تو 84,084 کروڑ روپے نجی کمپنیوں کو کیوں دیے جا رہے ہیں۔