سنجیو بھٹ کو حق گوئی کی سزا، 8 سال سے جیل میں مقید

   

جہدکاروں سے سابق آئی پی ایس کا تذکرہ، ناکردہ گناہوں کی سزا کا الزام
حیدرآباد۔6۔ستمبر۔(سیاست نیوز) گودھرا فساد معاملہ میں نریندر مودی کو ’’کلین چٹ‘‘ حاصل ہونے کے بعد سابق آئی پی ایس ’’سنجیو بھٹ‘‘ کے خلاف شروع کی جانے والی کاروائیوں کے نتیجہ میں سنجیو بھٹ اب 8 سال سے جیل میں قید ہیں اور وہ ’’حق گوئی ‘‘ کی سزاء کاٹ رہے ہیں۔ ملک بھر میں کئی سرکردہ سماجی جہد کاروں اور انسانی حقوق کے لئے جدوجہد کرنے والوں کا یہ احساس ہے کہ سنجیو بھٹ کو 1990 کے زیر دریافت قیدی کے قتل معاملہ میں پھنساتے ہوئے انہیں عمر قید کی سزاء سنائی گئی ہے ۔6ستمبر کو سنجیو بھٹ کے جیل میں 8 سال مکمل ہوچکے ہیں اور اس موقع پر ان کے افراد خاندان کے علاوہ گجرات فسادات کے بعد انسانی حقوق کے تحفظ ‘ ظالموں کو سزاء دلوانے کے لئے جدوجہد کرنے والوں کے علاوہ جہدکاروں نے سنجیو بھٹ کو یاد کرتے ہوئے ان کے ناناوتی کمیشن کے علاوہ دیگر فورمس پر جہاں ’’گجرات نسل کشی ‘‘ 2002 کی تحقیقات کی جا رہی تھی دی جانے والی گواہیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ’’سنجیو بھٹ‘‘ کے جیل میں 2924 دن مکمل ہوچکے ہیں۔سنجیو بھٹ نے 2002 گجرات فسادات کے معاملہ میں حکومت کی نااہلی اور فساد برپا کرنے والوں کو دی جانے والی کھلی چھوٹ کے احکامات کے علاوہ دیگر ایسے کئی راز افشاء کئے تھے جس نے ملک بھر کے ہر انسانیت دوست شہری کے علاوہ سیکولر ذہن رکھنے والے عوام کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا لیکن ملک میں اقتدار حاصل کرنے کے بعد انہیں اور ان کے افراد خاندان کو شروع ہونے والی ہراسانی کے سلسلہ میں مجموعی طو رپر اختیار کردہ جمود اور ان کے افراد خاندان کو دی جانے والی اذیتیوں کے بعد انہیں 1990 کے ایک مقدمہ میں ماخوذ کرتے ہوئے سزا دلائی جانے کے بعد بھی ان کے افراد خاندان بالخصوص اہلیہ اور بچوں کی جانب سے حقائق کو منظر عام پر لانے کا سلسلہ جاری ہے۔ 2018 میں سنجیو بھٹ کو حراست میں لیتے ہوئے اندرون ایک برس انہیں عمر قید کی سزاء سنائی گئی اور وہ فی الحال راجکوٹ سنٹرل جیل میں ہیں۔سنجیو بھٹ اور ان کے افراد خاندان اسے سیاسی ہراسانی قرار دیتے ہوئے یہ الزام عائد کرتے رہے ہیں کہ ’گجرات فسادات ‘ سے متعلق حقائق کو منظر عام پر لائے جانے کے نتیجہ میں ایک آئی پی ایس کو بری طرح سے پھنسایا گیا ہے اور انہیں ناکردہ گناہوں کی سزاء دی جا رہی ہے۔3