سویڈن کی عدالت کا اسلام مخالف فیصلہ! عالم اسلام میں شدید غم و غصہ کی لہر
اسٹاکہوم : سویڈن کی عدالت نے قرآن پاک کے نسخوں کو جلانے کی ناپاک جسارت کرنے کیلئے منعقد کردہ اجتماع پر پولیس کی پابندی کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کے پاس اس اجتماع کو روکنے کا قانونی جواز نہیں۔اطلاعات کے مطابق یہی فیصلہ انتظامی عدالت نے بھی دیا تھا اور منتظمین کو اجتماع کی اجازت دیدی تھی جس کے خلاف پولیس اپیل کورٹ میں گئی تھی اور استدعا کی گئی تھی کہ ایسے اجتماعات نقص امن کا باعث بن سکتے ہیں۔تاہم اپیل کورٹ نے انتظامی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے اپنے فیصلے میں کہا کہ سکیورٹی خدشات مظاہرے اور اجتماع کے حق کو محدود کرنے کیلئے کافی نہیں ہیں۔ اس لیے مظاہروں اور اجتماعات پر پابندی عائد نہیں کی جا سکتی۔یاد رہے کہ جنوری میں سویڈن کے دارالحکومت اسٹاکہوم میں ترکی کے سفارت خانے کے باہر متعصب انتہا پسند دائیں بازو کے لیڈر راسمس پالوڈان نے قرآن پاک کے نسخے کو نذر آتش کرنے کی ناپاک جسارت کی تھی جس سے مسلم دنیا میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ۔پولیس کا کہنا تھا کہ کئی ممالک میں سویڈن کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہوئے جس نے سویڈن کے خلاف نفرت کو جنم دیا ہے ۔ اگر ایسے اجتماعات ہوئے تو سویڈن کے شہریوں پر حملے ہوسکتے ہیں۔سویڈن پولیس نے اسی وجہ سے دو اور ایسے قرآن اور اسلام مخالف اجتماعات کی اجازت دینے سے انکار کردیا تھا جس میں قرآن پاک کے نسخے کو نذرآتش کرنے کی ناپاک حرکت دہرائی جانی تھی۔پولیس کی جانب سے اجازت نہ ملنے پر اجتماع کے منتظمین نے انتظامی عدالت سے رجوع کیا اور اجازت حاصل کرلی تھی ۔ تاہم پولیس اپیل کورٹ میں معاملہ لے گئی لیکن وہاں بھی منتظمین کو اجازت دیدی گئی۔