لندن : سویڈن میں ایک عدالت نے قرآن مجید نذرآتش کرنے کے دو مظاہروں پر پابندی عاید کرنے کا پولیس کا اقدام کالعدم قرار دے دیا ہے جبکہ اسی طرح کے مظاہرے پردہشت گردی کی کارروائی کی منصوبہ بندی کے الزام میں پانچ مشتبہ شدت پسندوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔جنوری میں اسٹاک ہوم میں ترکیہ کے سفارت خانہ کے باہر اسلام کی مقدس کتاب کو نذر آتش کرنے کے واقعے پر اسلامی دنیا میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی تھی۔اس کے ردعمل میں کئی ہفتے تک احتجاج کیا گیا تھا،سویڈش مصنوعات کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا گیا تھا اور سویڈن کی نیٹو رکنیت کی کوشش کو روک دیا گیا تھا۔سویڈش پولیس نے قرآن مجید کو نذرآتش کرنے کے اس واقعہ کے بعد فروری میں ایسے ہی ہونے والے دو اور مظاہروں پر پابندی عاید کردی تھی لیکن سویڈن کی سپریم انتظامی عدالت اس اقدام کو یہ کہتے ہوئے کالعدم قراردے دیا ہے کہ سکیورٹی خدشات مظاہرے کے حق کومحدود کرنے کے لیے کافی نہیں ہیں۔جج ایوا لوٹا ہیڈن نے ایک بیان میں کہا کہ پولیس اتھارٹی کے پاس اپنے فیصلوں کیحق میں مناسب حمایت نہیں تھی۔