4 فیصد تحفظات سے دوسرے طبقات متاثر نہیں،حجاب مذہبی اورثقافتی کلچرکا حصہ، ہر شہری کو اپنی پسند کے لباس کا اختیار
حیدرآباد ۔23 ۔ ستمبر (سیاست نیوز) سابق مرکزی وزیر قانون اور نامور وکیل سلمان خورشید نے کہا کہ معاشی طور پر پسماندہ افراد کیلئے مرکز سے 10 فیصد تحفظات اور متحدہ آندھراپردیش میں مسلمانوں کو 4 فیصد تحفظات کے حق میں سپریم کورٹ نے موثر پیروی کی جائیگی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں تحفظات کی برقراری کے امکانات ہیں کیونکہ مرکز اور متحدہ آندھراپردیش کی حکومت نے جامع سروے کی بنیاد پر حقیقی غریب اور پسماندہ طبقات کو تحفظات کے دائرہ میں شامل کیا ہے۔ سلمان خورشید جو تحفظات مقدمہ میں سابق وزیر محمد علی شبیر کے وکیل ہیں، آج حیدرآباد پہنچے۔ انہوں نے منتخب صحافیوں سے تحفظات کے علاوہ حجاب کے مسئلہ پر سپریم کورٹ مقدمہ پر اظہار خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت سپریم کورٹ اپنا موقف تبدیل نہ کرے تو 10 فیصد تحفظات کی برقراری یقینی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ پہلے مرحلہ میں 10 فیصد تحفظات کی سماعت کر رہا ہے اور دوسرے مرحلہ میں 4 فیصد مسلم تحفظات پر دلائل کی سماعت ہوگی۔ سلمان خورشید نے کہا کہ اگر موجودہ مرکزی حکومت پسماندہ طبقات کے ساتھ انصاف میں سنجیدہ ہو تو اسے 10 فیصد تحفظات کا دفاع کرنا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی حالات بدلنے سے قانون تبدیل نہیں ہوجاتا۔ 10 فیصد تحفظات کے حق میں پارلیمنٹ میں قانون سازی کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ تحفظات کی فراہمی سے دیگر پسماندہ طبقات کے ساتھ ناانصافی نہیں ہوگی۔ 4 فیصد مسلم تحفظات کا حوالہ دیتے ہوئے سلمان خورشید نے کہا کہ آندھراپردیش حکومت نے 27 فیصد بی سی طبقات میں پہلے سے موجود بعض طبقات کو علحدہ کرکے انہیں 4 فیصد تحفظات فراہم کئے ہیں۔ 4 فیصد کے نتیجہ میں 27 فیصد بی سی طبقات کا کوئی نقصان نہیں ہے اور مجموعی تحفظات 50 فیصد سے کم ہیں۔ جامع سروے کمیشن کی رپورٹ کی بنیاد پر مسلمانوں کو 4 فیصد تحفظات فراہم کئے گئے ۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ سپریم کورٹ کا دستوری بنچ تحفظات کی برقراری کے حق میں فیصلہ دیگا۔ حجاب مسئلہ پر انہوں نے کہا کہ دستور ہند میں شہریوں کے مذہبی حقوق کے علاوہ ان کے ثقافتی حقوق کا تحفظ کیا گیا ہے۔ حجاب مذہب کے ساتھ کلچر کا حصہ ہے۔ پنو سوامی مقدمہ میں سپریم کورٹ کے 9 رکنی بنچ نے شہریوں کو خودمختار بنانے حقوق فراہم کرنے کی تائید کی ۔ ہر شہری کو اپنے لباس ، غذا اور رہن سہن کا اختیار دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس ، فوج اور اسکولوں میں اگرچہ وہاں کے قواعد پر عمل کرنا لازمی ہوتا ہے لیکن قواعد کی تیاری کے وقت مذہبی شناخت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام میں حجاب کو واجب اور فرض کا درجہ حاصل ہے اور سپریم کورٹ میں قرآن مجید کی آیتوں کو دلیل کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حجاب اور گھونگٹ مذہب کے ساتھ ساتھ کلچر کا حصہ ہے۔ سلمان خورشید نے کہا کہ سپریم کورٹ مذہبی حقوق کے ساتھ ثقافتی روایتوں کے بارے میں فیصلہ سنائے گا۔ر