سپریم کورٹ میں کئی کرپٹ ججس، انصاف رسانی کو سخت نقصان

   

ججس میں اعلیٰ طبقات کا غلبہ، SIR پر سپریم کورٹ کا موقف درست نہیں، سینئر ایڈوکیٹ دوشینت داوے کا کے ایم بشیر میموریل لکچر
حیدرآباد۔ 27 ستمبر (سیاست نیوز) سپریم کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ دوشنت داوے نے الزام عائد کیا کہ سپریم کورٹ نے کئی ایسے کرپٹ ججس گزرے ہیں جنہوں نے انصاف کو بری طرح نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں عدالتی نظام کا طاقتور اور دولت مند کی طرف جھکاؤ بڑھ چکا ہے اور عدلیہ کے فیصلے عاملہ کے حق میں دکھائی دے رہے ہیں۔ دوشینت داوے تھرواننتاپور میں 17 ویں کے ایم بشیر میموریل لکچر سے خطاب کررہے تھے جس کا عنوان ’’کیا ہم دستور کو ناکام بنا رہے ہیں یا دستور نے ہمیں ناکام بنایا ہے‘‘ تھا۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ میں بعض غیر معمولی ججس گزرے ہیں جبکہ دیگر ججس کے رویہ سے انصاف رسانی کے نظام کو سخت نقصان پہنچا ہے۔ عدلیہ سے اپنی 48 سالہ وابستگی کا حوالہ دیتے ہوئے دوشینت داوے نے کہا کہ عدلیہ میں بعض غیر معمولی ججس ہیں جبکہ کئی کرپٹ ججس موجود ہیں جس کے نتیجہ میں انصاف رسانی کا عمل متاثر ہوا ہے۔ اگرچہ میں ایسے ججس کی تعداد سے واقف نہیں لیکن ان کی سرگرمیوں سے انصاف اور بنیادی انسانی ضرورتوں کو نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بڑے صنعتی گھرانے عام طور پر عدلیہ سے اپنے حق میں فیصلے حاصل کررہے ہیں۔ سینئر ایڈوکیٹ نے عدلیہ اور عاملہ کے درمیان روابط پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ نظام عدل زیادہ تر عاملہ کی تائید کررہا ہے جس کے نتیجہ میں وہ زیادہ طاقتور بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لئے دستور کی دفعہ 32 کے تحت مداخلت سے گریز کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عاملہ کی زیادتیاں صرف ایمرجنسی میں اندرا گاندھی حکومت تک محدود نہیں رہیں۔ انہوں نے فہرست رائے دہندگان پر خصوصی نظرثانی مہم SIR کے معاملہ میں سپریم کورٹ کے رویہ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ کے نتیجہ میں نوجوان رائے دہندوں کے لئے خطرہ پیدا ہوچکا ہے۔ سپریم کورٹ میں ججس کی تعداد کا حوالہ دیتے ہوئے دوشینت داوے نے سابق چیف جسٹس آف انڈیا بی وائی چندراچور کو تنقید کا نشانہ بنایا جن کے دور میں خاتون ججس کے تقررات نہیں کئے گئے۔ جسٹس چندراچور بلند بانگ دعوے کرتے ہیں لیکن انہوں نے 17 ججس کے تقررات کئے جن میں ایک بھی خاتون شامل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ججس کے تقررات میں تمام طبقات کو نمائندگی دی جانی چاہئے تاکہ وہ سماجی تنازعات کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔ ملک میں زیادہ تر ججس کا تعلق اعلیٰ طبقات سے ہے اور ان میں سے اکثر قانون کے بیک گراؤنڈ سے تعلق رکھتے ہیں۔ جب تک ججس کا تعلق سماج کے مختلف طبقات سے نہیں ہوگا وہ سماجی مسائل کی حساسیت کو سمجھ نہیں پائیں گے۔ انہوں نے میڈیا کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ میڈیا اور نہ ہی عدلیہ شہریوں کا تحفظ کررہے ہیں۔ عوام کی آواز کی اہمیت باقی نہیں رہی کیونکہ دو اہم ستون میڈیا اور عدلیہ عوام کے تحفظ میں بری طرح ناکام ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ تر الیکٹرانک میڈیا کا کوریج ملک کے بارے میں مثبت رہتا ہے اور عوام کے سامنے یہ تصویر پیش کی جاتی ہے کہ سب کچھ ٹھیک ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے 2014 سے آج تک مختلف اہم پراجکٹس کے اعلان اور افتتاح کا حوالہ دیتے ہوئے دوشینت داوے نے کہا کہ وزیر اعظم نے کئی ٹریلین روپے مالیت کے پراجکٹس کا افتتاح ضرور کیا لیکن ان میں 20 فیصد پراجکٹس بھی مکمل نہیں ہوئے لیکن میڈیا کی جانب سے اس کا کوئی تذکرہ نہیں ہوتا اور نہ ہی حقائق عوام کے روبرو پیش کئے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا کی جانب سے وزیر اعظم سے سوالات بھی نہیں کئے جاتے۔ 2014 سے وزیر اعظم نے ایک مرتبہ بھی میڈیا کا سامنا نہیں کیا۔ ملک میں دولت مند اور طاقتور افراد میڈیا پر کنٹرول کررہے ہیں جس کے نتیجہ میں میڈیا بے وقعت ہوچکا ہے۔ 1؍F