سپریم کورٹ میں 4 فیصد مسلم تحفظات کے حق میں مؤثر پیروی کی ہدایت

   

محمود علی کا عہدیداروں کے ساتھ اجلاس، نامور وکلاء کی خدمات
حیدرآباد 22 ستمبر (سیاست نیوز) سپریم کورٹ میں 4 فیصد مسلم تحفظات کی برقراری کے لئے تلنگانہ حکومت نے نامور وکلاء کی خدمات حاصل کی ہیں اور تحفظات پر عمل آوری جاری رکھنے میں حکومت سنجیدہ ہے۔ وزیرداخلہ محمد محمود علی نے پرنسپل سکریٹری اقلیتی بہبود احمد ندیم اور پرنسپل سکریٹری بی سی ویلفیر بی وینکٹیشم کے ساتھ اجلاس میں سپریم کورٹ میں تحفظات مقدمہ کی پیشرفت کا جائزہ لیا۔ چیف منسٹر کے سی آر نے گزشتہ دنوں تحفظات کیس کے بارے میں وزیرداخلہ محمود علی سے بات چیت کی اور اُنھیں ہدایت دی کہ عہدیداروں کے ساتھ ربط میں رہیں اور ضرورت پڑنے پر نئی دہلی پہونچ کر مقدمہ کی مؤثر پیروی کو یقینی بنائیں۔ محمد محمود علی نے عہدیداروں کو بتایا کہ چیف منسٹر 4 فیصد تحفظات کی برقراری میں سنجیدہ ہیں لہذا عدالت میں پیروی کے بارے میں کوئی کوتاہی نہ ہو۔ اُنھوں نے کہاکہ تلنگانہ حکومت نے ڈاکٹر راجو دھون اور راکیش دیویدی جیسے ماہرین قانون کی خدمات حاصل کی ہیں جبکہ معاونین کے طور پر شمشاد احمد اور نظام الدین کو مقرر کیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ کے دستوری بنچ نے تلنگانہ کے وکلاء کو بحث کے لئے 8 گھنٹے الاٹ کئے ہیں۔ محمد محمود علی نے کہاکہ بی سی ویلفیر اور اقلیتی بہبود کے اعلیٰ عہدیدار سپریم کورٹ میں سماعت کے موقع پر موجود رہیں گے۔ اُنھوں نے کہاکہ تلنگانہ میں 4 فیصد تحفظات پر عمل آوری کے سبب ہزاروں طلبہ کو فائدہ پہونچ رہا ہے۔ ر