مرکزی فنڈس اور قرض کے حصول پر مشاورت، وزیر فینانس نرملا سیتا رامن سے ملاقات کا امکان
حیدرآباد ۔ 28 ۔ جولائی (سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ جو ان دنوں نئی دہلی میں قیام پذیر ہیں، ریاست کی معاشی صورتحال بہتر بنانے کیلئے مرکز سے فنڈس کے حصول کے معاملہ میں عہدیداروں کو متحرک کرچکے ہیں۔ چیف سکریٹری سومیش کمار اور محکمہ فینانس کے اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ اجلاس منعقد کرتے ہوئے کے سی آر نے قرض کے حصول کے معاملہ میں مرکز کی جانب سے رکاوٹوں کو دور کرنے نمائندگی کا فیصلہ کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف سکریٹری اور دیگر عہدیداروں نے مختلف مرکزی وزارتوں کے عہدیداروں سے ملاقات کی اور ریاست کو قابل ادائیگی فنڈس اور قرض کے حصول کے معاملہ میں شرائط میں نرمی کی نمائندگی کی۔ عہدیداروں نے مثبت ردعمل کا اظہار کیا تاہم مرکزی حکومت کی سطح پر فیصلہ باقی ہے۔ چیف منسٹر نے تلنگانہ کی معاشی صورتحال میں بہتری کیلئے مرکز کے عدم تعاون پر افسوس کا اظہار کیا۔ چیف منسٹر نے عہدیداروں سے کہا کہ دیگر ریاستوں کی جانب سے قرض کے حصول کے اقدامات کے بارے میں تفصیلات حاصل کریں۔ اسی دوران مرکز کی جانب سے برقی شعبہ میں 10 ہزار کروڑ قرض کے حصول کی اجازت دی گئی ہے۔ قرض کے سلسلہ میں پاور فینانس کارپوریشن اور دیگر اداروں کی جانب سے طئے کردہ شرائط کا جائزہ لیا گیا ۔ چیف منسٹر نے عہدیداروں سے کہا کہ اضافی بوجھ کے بغیر قرض کے حصول کے امکانات تلاش کریں۔ اطلاعات کے مطابق چیف منسٹر نے فنڈس اور قرض کے مسئلہ پر مرکزی وزیر فینانس نرملا سیتا رامن سے ملاقات کا وقت مانگا ہے ۔ چیف منسٹر نے دہلی میں قیام کے دوران ابھی تک کسی بھی مرکز ی وزیر سے ملاقات نہیں کی۔ پارٹی ذرائع کے مطابق ارکان پارلیمنٹ کو ہدایت دی گئی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور دیگر مرکزی وزراء سے ملاقات کا وقت متعین کریں۔ چیف منسٹر نے دہلی میں سیاسی سرگرمیوں کے بجائے ریاست کی مالی حالت سدھارنے کے امور پر توجہ مرکوز کی ہے ۔ ر