پارٹی کا پرچم بلند کرنے والوں کو حاشیہ بردار بنانے کی سازش ، عام مسلمانوں میں بے چینی
حیدرآباد۔/16 اکٹوبر، ( سیاست نیوز) سیاسی جماعتوں میں مسلمانوں کی موجودگی اور عہدے کیا اب کھٹکنے لگے ہیں ؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو عام شہریوں کو سوچنے پر مجبور کررہا ہے۔ سرکاری عہدے ، نامزد عہدے اور روایتی میناریٹی نشستیں یہ تو عام بات ہوا کرتی ہے لیکن مسلمانوں کی نمائندگی کیلئے دیئے جانے والے عہدے بھی اب نظرانداز کردیئے جارہے ہیں بلکہ اقدامات تو اس طرح کئے جارہے ہیں کہ مسلم نمائندوں اور قائدین کو آہستہ آہستہ ایک کے بعد دیگر نظرانداز کردیا جارہا ہے۔ پارٹی سے انہیں ہٹانے اور عہدوں سے محروم کرنے کیلئے ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت کام کیا جارہا ہے جس سے ایسا ظاہر ہونے لگا ہے کہ مختلف رنگوں کے لباس اور جھنڈوں والی ان جماعتوں میں موجود قائدین نے چڈی سے پتلون تک سفر ان ہی جماعتوں میں رہتے ہوئے طئے کیا ہے اور چڈی، پتلون کی سیاست پر عمل کرنے کیلئے مختلف انداز کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہیں۔ ریاست تلنگانہ میں بھی کچھ اس طرح کا حا ل ہے۔ عوامی جلسوں کے علاوہ پارٹی کے اجلاسوں میں بھی مسلمانوں کو دوسری صف میں رکھا جانے لگا ہے جو ایک دوسرے کی مخالفت کرنے والی سیاسی پارٹیوں کا ایک خفیہ ایجنڈہ تصور کیا جارہا ہے جس کی کئی ایک مثالیں پائی جاتی ہیں۔ اس دوڑ میں تلنگانہ راشٹرا سمیتی بھی کچھ کم نہیں۔ پارٹی کی جانب سے وعدے تو بہت کئے گئے لیکن عملی اقدامات کیلئے ریاست کے مسلمان آج تک منتظر ہیں۔ شہر کے جوبلی ہلز حلقہ اسمبلی میں کچھ اس طرح کی سرگرمیاں جاری ہیں۔اپنی مقررہ مدت تک ڈپٹی میئر کے عہدہ پر خدمات انجام دینے والے بابا فصیح الدین کو پارٹی کی جانب سے بری طرح نظرانداز کردیا جارہا ہے۔ حلقہ میں جاری گروپ بندیوں کا راست اثر بابا کے مستقبل پر پڑ رہا ہے۔ مقامی رکن اسمبلی گوپی ناتھ پر بابا فصیح الدین سے سیاسی خصومت کے الزامات پائے جاتے ہیں اور یہ بھی سنگین الزام ہے کہ گوپی ناتھ ماگنٹی جان بوجھ کر حلقہ سے مسلم نمائندگی کو ختم کرنا چاہتے ہیں چونکہ بابا سے پہلے شفیع کو تباہ کیا گیا۔ بلدی ڈیویژن رحمت نگر کے کارپوریٹر رہ چکے شفیع کو پارٹی نے یکسر طور پر نظرانداز کردیا۔ مسلمانوں کی خاطر خواہ آبادی والے حلقہ سے ٹی آر ایس کا پرچم بلند کرنے والے شفیع آج گوشہ گمنامی میں چلے گئے ہیں اور شفیع کے ساتھ سیاسی خصومت بھی گوپی ناتھ کو الزامات کے گھیرے میں لیتی ہے۔ حلقہ اسمبلی جوبلی ہلز میں شیخ پیٹ، رحمت نگر، ایرا گڈہ اور بورا بنڈہ ڈیویژن میں مسلم نمائندگی پائی جاتی ہے جن میں دو ڈیویژنس پر مجلس کے امیدوار ہیں جبکہ رحمت نگر سے سابق میں ٹی آر ایس سے شفیع نے کامیابی حاصل کی تھی۔ اس حلقہ میں مسلم کارپوریٹرس کی کامیابی اور مسلمانوں کی آبادی کا تناسب اس حلقہ سے مسلم رکن اسمبلی کی کامیابی کو یقینی بنانا ہے لیکن آج تک کسی بھی سیاسی جماعت نے یہ نہیں چاہا کہ اس حلقہ سے مسلمان کامیاب ہوں بلکہ جو کارپوریٹرس ہیں اب وہ بھی کھٹکنے لگے ہیں۔ اس طرح نامزد عہدوں پر بھی ایک کے بعد ایک مسلم نمائندگی کو ختم کیا جانے لگا ہے۔ آخر کب تک مسلمان سیاسی پارٹیوں کی سازشوں کا شکار بنتے رہیں گے۔ سیکولر اقدار اور اکثریتی ووٹ بینک کو دیکھتے ہوئے مسلمانوں کو عملاً نظرانداز کرنے کا سلسلہ جاری ہے اور پارٹی سے نہیں ہٹانے اور کمزور کرنے کیلئے منظم سازش کے تحت ان کے کردار کو بدنام کیا جارہا ہے اور مقامی سطح پر مسلم نمائندگی کو ختم کرنے کیلئے معاملات میں گھسیٹتے ہوئے انہیں پہلے بدنام کیا جاتا ہے اور پھر پارٹی میں نظرانداز کیا جانے لگا ہے۔ سیکولر پارٹیوں کے اس طرز عمل سے مسلمانوں میں بے چینی پائی جاتی ہے اور یہ خیال پایا جارہا ہے کہ جس جماعت کی جانب سے اہمیت حاصل رہے گی اسی جماعت کو مسلمانوں کی حمایت حاصل ہوگی۔ مسلمان بھی حکمت عملی تیار کرتے ہوئے اپنے وجود کا احساس اور اپنی اہمیت دکھانے کی سوچ رکھتے ہیں اور سابقہ روش کو بدلتے ہوئے جہاں مقام حاصل ہوگا وہیں مقام بنانے کی فکر کرنے لگے ہیں اور ایسی جماعت کے حق میں اپنا موقف پیش کرنے کا منصوبہ بنارہے ہیں جس جماعت کی جانب سے مسلمانوں کے حق میں نہ صرف وعدہ بلکہ اقدامات کئے جائیں گے۔ ع