سیاسی جماعتوں کے صدور کی نظریں اسمبلی انتخابات پر

   

چند صدور نے اسمبلی حلقوں کا انتخاب کرلیا، چند صدور اسمبلی حلقوں کے انتخاب میں مصروف

محمد نعیم وجاہت
ریاست میں جاریہ سال منعقد ہونے والے اسمبلی انتخابات میں حصہ لینے کے لئے مختلف جماعتوں کے صدور نے اپنی تیاریوں کا آغاز کردیا ہے جس سے ریاست میں سیاسی سرگرمیاں عروج پر پہونچ چکی ہیں۔ ریاست میں مختلف سیاسی جماعتوں کی نمائندگی کرنے والے صدور میں چند صدور نے اپنے مقابلہ کرنے والے اسمبلی حلقوں کا انتخاب بھی کرلیا ہے۔ چند صدور اپنے لئے اسمبلی نشستوں کا انتخاب کرنے میں مصروف ہوگئے ہیں۔ سوائے صدر مجلس اسدالدین اویسی کے ماباقی تمام جماعتوں کے صدور بشمول کمیونسٹ جماعتوں کے اسٹیٹ سکریٹریز اسمبلی انتخابات میں اپنی اپنی قسمت آزمارہے ہیں۔ اسمبلی انتخابات کے بعد آئندہ سال لوک سبھا انتخابات منعقد ہونے والے ہیں لہذا صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی اے ریونت ریڈی اور تلنگانہ بی جے پی کے صدر بنڈی سنجے نے اس مرتبہ پہلے اسمبلی انتخابات میں حصہ لینے کی حکمت عملی تیار کرلی ہے۔ چیف منسٹر کے سی آر نے ٹی آر ایس کو قومی جماعت بی آر ایس میں تبدیل کردیا ہے اور قومی سیاست میں اہم رول ادا کررہے ہیں تاہم پہلے اسمبلی انتخابات منعقد ہورہے ہیں لہذا وہ اسمبلی حلقہ گجویل سے دوبارہ مقابلہ کرنے کی تیاری کررہے ہیں۔ تلنگانہ بھون کے ذرائع نے بتایا کہ چیف منسٹر کے سی آر ضرور قومی سطح پر اہم رول ادا کررہے ہیں تاہم وہ اسمبلی انتخابات میں مقابلہ کریں گے۔ لوک سبھا انتخابات میں قومی سیاست میں مؤثر رول ادا کرنے کے لئے ضرورت پڑنے پر وہ حلقہ لوک سبھا میدک سے مقابلہ کرسکتے ہیں۔ حلقہ لوک سبھا میدک کی نمائندگی کرنے والے بی آر ایس کے رکن پارلیمنٹ کے پربھاکر ریڈی کو اس مرتبہ اسمبلی حلقہ دوباک سے مقابلہ کرانے کے قوی امکانات ہیں۔ پارٹی کی تشکیل کے بعد سے حلقہ لوک سبھا میدک ٹی آر ایس کے مضبوط قلعہ میں تبدیل ہوگیا ہے۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ و صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی اے ریونت ریڈی کے اس مرتبہ اپنے آ بائی حلقہ کوڑنگل سے اسمبلی کے لئے مقابلہ کرنے کی توقع کی جارہی تھی تاہم بی آر ایس کے قائد سابق رکن اسمبلی گروناتھ ریڈی کانگریس میں شامل ہوگئے۔ جس کے بعد یہ افواہیں گشت کررہی ہیں کہ گروناتھ ریڈی یا ان کے فرزند اسمبلی حلقہ کوڑنگل سے کانگریس کے ٹکٹ پر مقابلہ کریں گے۔ کانگریس ہائی کمان یہ غور کررہی ہے کہ اگر ریونت ریڈی شہر حیدرآباد کے مضافاتی علاقہ میں کسی ایک اسمبلی حلقہ سے مقابلہ کرتے ہیں تو اس کا اثر دوسرے اسمبلی حلقوں پر بھی پڑے گا۔ ریونت ریڈی حلقہ لوک سبھا ملکاجگری کے حدود میں شامل کسی ایک اسمبلی حلقہ سے مقابلہ کرسکتے ہیں۔ ان کی نظر اسمبلی حلقہ ایل بی نگر اور اپل پر ٹکی ہوئی ہے۔ تلنگانہ بی جے پی کے صدر بنڈی سنجے حلقہ لوک سبھا کریم نگر کی نمائندگی کرتے ہیں۔ وہ اسمبلی حلقہ کریم نگر یا کریم نگر لوک سبھا حدود میں کسی ایک حلقہ کے علاوہ ضلع عادل آباد کے کسی ایک حلقہ سے مقابلہ کرنے کی تیاریاں کررہے ہیں۔ وہ پارٹی میں کتنے بھی مصروف کیوں نہ ہوں ہفتہ میں ایک مرتبہ کریم نگر کا دورہ کررہے ہیں اور پارٹی پروگرامس کا حصہ بن رہے ہیں۔ کمیونسٹ جماعتوں سی پی آئی اور سی پی ایم نے بی آر ایس سے اتحاد کرنے کا پہلے ہی اعلان کردیا ہے اور دونوں جماعتوں کے اسٹیٹ سکریٹریز ضلع کھمم پر نظریں جمائے ہوئے ہیں۔ سی پی ایم کے اسٹیٹ سکریٹری ٹی ویرا بھدرم اسمبلی حلقہ پالیر اور سی پی آئی کے اسٹیٹ سکریٹری کے سامبا شیوا راؤ کتہ گوڑم اسمبلی حلقہ سے مقابلہ کرنے کی تیاریاں کررہے ہیں۔ اگر کمیونسٹ جماعتوں کا بی آر ایس سے اتحاد ہوجاتا ہے تو یہ دونوں جماعتیں ضلع کھمم کی ان دو جنرل اسمبلی حلقوں پر پہلے اپنی دعویداری پیش کریں گے۔ ٹی جے ایس کے سربراہ پروفیسر کودنڈا رام اس مرتبہ اسمبلی انتخابات میں مقابلہ کریں یا نہ کریں اس پر غور کررہے ہیں، اگر مقابلہ کرنا ہے تو اسمبلی حلقہ جات منچریال، سکندرآباد، اُپل میں کسی ایک حلقہ سے مقابلہ کرنے پر غور کررہے ہیں۔ بی ایس پی کے ریاستی سربراہ سابق آئی پی ایس عہدیدار آر ایس پروین کمار متحدہ ضلع محبوب نگر کے اسمبلی حلقہ جات عالم پور یا اچم پیٹ میں کسی ایک حلقہ سے مقابلہ کرنے کی تیاری کررہے ہیں۔ وائی ایس آر کانگریس پارٹی کی سربراہ شرمیلا ضلع کھمم کے اسمبلی حلقہ پالیر سے مقابلہ کرنے کا پہلے ہی اعلان کرچکی ہیں۔ دوسری جانب مجلس کے صدر اسدالدین اویسی نے پھرحیدرآباد لوک سبھا حلقہ سے مقابلہ کرنے کے لئے تیاریوں کا آغاز کردیا ہے۔