مرکزی محکمہ تعلیم کے احکام ۔ طلباء کو ہراسانی اور اذیت سے بچانے فیصلہ
حیدرآباد۔22 جولائی (سیاست نیوز) حکومت ہند نے تمام سی بی ایس سی ملحقہ اسکولوں میں طلبہ کے تحفظ کویقینی بنانے کا فیصلہ کرکے سی بی ایس سی اسکولوں کیلئے نئے رہنما خطوط و قواعد جاری کئے اور ملک بھر کے تمام سی بی ایس سی اسکولوں میں سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب کے احکام جاری کئے ہیں۔ سی بی ایس سی اسکولوں میں سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب کے احکام میں کہاگیا کہ طلبہ کے تحفظ کو یقینی بنانے اور انہیں ہراسانی سے محفوظ رکھنے اس بات کا فیصلہ کیاگیا کہ اسکولوں کے احاطہ میں آڈیو ویژول سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب کو یقینی بنایا جائے ۔ مرکزی محکمہ تعلیم سے جاری احکام میں کہاگیا ہے کہ ملک کی تمام ریاستوں میں سی بی ایس سی اسکولوں میں کلاس رومس و راہداری‘ میدان‘ لائبریری‘ سیڑھیوں اور دیگر اہم مقامات پر سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب عمل میں لائیں اور سی سی ٹی وی کے ریکارڈس کم از کم 15 دن محفوظ رکھے جائیں تاکہ اگر کوئی شکایت ہوتو سی سی ٹی وی کے ذریعہ ان کا جائزہ لیا جاسکے۔ سنٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن سے جاری رہنمایانہ خطوط میں تمام اسکولوں کو پابند بنایا گیا کہ وہ اپنے اسکولوں میں طلبہ کو کسی طرح کی ہراسانی سے محفوظ رکھنے اور ان کے تحفظ کو یقینی بنانے سی سی ٹی وی کی تنصیب عمل میں لائیں۔ سی بی ایس سی نے ان احکامات میں اسکول کے الحاق سے متعلق قوانین 2018 میں ترمیم کا حوالہ دیتے ہوئے اسکولوں میں سی سی ٹی وی کی تنصیب کو لازمی قرار دیا ہے۔بتایا جاتا ہے کہ سی بی ایس سی بورڈ نے نیشنل کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس سے جاری رہنما خطوط کا حوالہ دے کر کہا کہ ستمبر 2021 میں کمیشن سے جو مینوول جاری کیاگیا اس کے مطابق اسکول کیمپس میں طلبہ کے تحفظ اور ہراسانی سے محفوظ رکھنے کو یقینی بنایا جانا چاہئے اور انہیں محفوظ ماحول کی فراہمی کے ذریعہ کسی بھی اذیت سے بچانے اقدامات ضروری ہیں ۔ذرائع کے مطابق اس فیصلہ کا مقصد اسکولوں میں زیر تعلیم طلبہ کو ٹکنالوجی کے ذریعہ کسی بھی طرح کی ذہنی اور جسمانی اذیت سے محفوظ رکھنے کے اقدامات کرنا ہے ۔3