اروند کجریوال کے متنازعہ بیان پر بی جے پی کا شدید ردعمل
نئی دہلی۔9؍اگست ( ایجنسیز ) عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے وزیر اعظم نریندر مودی کے حوالے سے ایک متنازعہ بیان دے دیا ہے۔ بی جے پی نے کیجریوال کے بیان کی ویڈیو ایکس پر شیئر کرتے ہوئے ان پر شدید تنقید کی۔ کیجریوال نے کہا کہ ’سی جے پی‘ احتجاج میں لوگ مودی کو ’ٹھوکنے‘ آئے تھے۔ بی جے پی نے اسے کیجریوال کی ’گھٹیا سوچ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم جیسے آئینی عہدے پر فائز شخص کیلئیاس طرح کی زبان ناقابل قبول ہے۔ دہلی حکومت کے وزیر کپل مشرا نے اروند کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ملک کے تین مرتبہ منتخب وزیر اعظم مودی کے بارے میں جس طرح کی زبان استعمال کی جارہی ہے وہ کسی ’بغاوت یا انقلاب‘ کی علامت نہیں بلکہ اخلاقی اور لسانی دیوالیہ پن کی آخری چیخ ہے۔کپل مشرا نے کیجریوال پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ جس شخص کو دہلی کے عوام نے ’ٹھوک‘ کر پنجاب بھیج دیا اور جسے اب پنجاب کے عوام بھی ’ٹھوکنے‘ جارہے ہیں وہ اپنی مایوسی میں وزیر اعظم کو ’ٹھوکنے‘ کی بات کر رہا ہے۔دہلی بی جے پی نے دعویٰ کیا کہ سی جے پی کے احتجاج کے ’اصل مالک‘ کیجریوال ہیں اور انہوں نے خود ہی یہ بات تسلیم کرلی ہے۔دہلی بی جے پی کے سابق صدر وریندر سچدیوا نے بھی کیجریوال کے بیان کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ اروند کیجریوال جس طرح کی زبان استعمال کرتے ہیں وہ انتہائی قابل مذمت ہے ۔سچدیوا نے کیجریوال پر بدعنوانی اور افراتفری کی سیاست کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم ایک آئینی عہدے پر فائز ہیں اور دنیا ان کی کامیابیوں کو تسلیم کرتی ہے۔کیجریوال کے بیان نے ایک بار پھر عام آدمی پارٹی اور بی جے پی کے درمیان سیاسی کشیدگی کو بڑھا دیا ہے اور آنے والے دنوں میں اس معاملے پر مزید سیاسی بیان بازی متوقع ہے۔