Wednesday , September 30 2020

شاہین میں احتجاج کو ہوئے پچاس دن’ہم اس وقت تک یہیں پر رہیں گے جب تک وہ بدلتے نہیں ہیں‘

نئی دہلی۔ گولی نہیں پھول کے نعرے اتوار کے روز شاہین باغ پر لگائے جارہے تھے‘ ایک روز قبل احتجاج کے مقام سے کچھ فاصلے پر ایک شخص نے ہوائی فائرینگ کی تھی۔

فائرینگ کے واقعہ کے بعد تازہ رسیاں کھینچ دی گئی ہیں اور احتجاج کے اطراف واکناف میں مزید بریکٹس لگادئے گئے ہیں اور باہر سے آنے والے پر شخص کے شناخت کارڈس کی جانچ کی جارہی ہے۔

لیکن خواتین احتجاجیوں کا حوصلہ اس سے قبل اتنا پرعزم نہیں دیکھائی دے رہاتھا۔مظاہرین نے سردیوں کے سرد ترین موسم میں بھی اپنے احتجاج کو جاری رکھا اور خطرناک موسم بھی ان کے حوصلوں کو کمزور نہیں کرسکا۔

یہاں پر سیاسی طور سے فروغ دینے او رسرمایہ کاری کرنے کا بھی فرقہ پرست تنظیمو ں کی جانب سے الزامات لگائے جارے ہیں۔ مگر انہیں طلبہ‘ آرٹسٹوں اور جہدکار وں سے حمایت مل رہی ہے۔

اتوار کے روز بنایا قیادت کے اس گروپ اکٹھا ہوکر خواتین کے حوصلہ کا جشن ساوتھ ایسٹ دہلی کے چھوٹے پڑوس میں منایاہے۔

نیلے او رپیلے رنگ کے خیمہ میں ”دیش کے پیاروں پر‘ پھول برساؤ ساروں پر“ کے نعرے لگائے جارہے تھے‘چونکہ سی اے اے‘ این آرسی او راین پی آر کے خلاف احتجاج کا چہرہ بن گئی خواتین پر پھول برسائے جارہے تھے۔

گولی نہیں پھول کی پہل میں حصہ لینے والے ایک تھیٹر آرٹسٹ جیا ائیر نے کہاکہ۔ لوگ پھولوں کا استعمال محبت او ربھگوان کی پوجا کے لئے کرتے ہیں۔

ہم سمجھتے ہیں کہ اس کا استعمال یہاں پر امن کی سونچ کو پھیلانے کے لئے کیاجائے گا“۔ صبح دس بجے کے قریب 50ویں روز کی شروعات نکڑ پروگرام کی پیشکش سے ہوا۔ایک درجن کے قریب طلبہ سیاہ لباس میں موجودہ سیاسی حالات پر چھائی ہوئی نفرت کو اجاگر کیا۔

دوپہر بارہ بجے تک احتجاج کے مقام پر ہجوم میں بے پناہ اضافہ ہوگیا‘ کیونکہ احتجاج کے مقام کو خالی کرانے کے لئے ہندو سینا نے اپنے والینٹرس کو طلب کیاتھا جس کی وجہہ سے یہاں پرتشدد کے خدشات تھے۔ مذکورہ فرقہ پرست تنظیم نے اپنے اعلان سے بعد ازا ں دستبرداری اختیار کرلی مگر مرد مظاہرین کا ہجوم اکٹھا ہوگیا تھا اوروہ احتجاج کے مقام پر پہنچنے کی کوشش کررہاتھا جس کی مانگ تھی کے احتجاج کا مقام خالی کیاجائے۔

وہ نعرے لگارہے تھے او رمظاہرین کو گولی مارنے کی بات کررہے تھے مگر پولیس نے بعد میں انہیں منتشر کردیاتھا۔ ان سے محض ایک کیلومیٹر پر احتجاجی دھرنے کا مقام تھا جہاں پر خواتین پچھلے پچاس دنوں سے بیٹھے ہوئے حکومت سے سی اے اے‘ این آرسی اور این پی آر سے دستبرداری کی مانگ کررہے ہیں۔

وہاں کی خواتین نے مظاہرین سے تشدد کا راستہ اختیار نہ کرنے کی بھی اپیل کی ہے۔

کارول باغ کی ساکن پرکاش دیوی جنھوں نے شاہین باغ کے احتجاجی دھرنے کے شہہ نشین پر انتظامات انجام دیتی ہیں نے کہاکہ ”ہماری لڑائی ائین کی حفاظت کو یقینی بنانے کی ہے۔

پچھلے کچھ دنوں سے حالات کا ناجائزفائدہ اٹھانے کی کوششیں کی جارہی ہیں مگر ہمارا پیغام وہی ہے جو روزاول سے ہے“

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT