آبادی والے علاقوں میں موجود اراضیات پر تدفین کے لیے اعتراضات ، موجودہ قبرستانوں میں بھاری رقم کی وصولی
حیدرآباد۔ 26۔مارچ (سیاست نیوز) مسلمانوں کی تجہیز و تکفین کا مسئلہ شہری علاقوں میں سنگین نوعیت اختیار کرنے لگا ہے اور گنجان آبادی والے علاقوں میں موجود اراضیات پر تدفین کے لئے اعتراض کیا جانے لگا ہے اور خود مسلم بستیوں میں موجود قبرستانوں میں نئی میتوں کی تدفین پر اعتراض کیا جا رہاہے اور وقف بورڈ میں جن اراضیات کا ریکارڈ قبرستان کی حیثیت سے درج ہے ان اراضیات پر بھی تدفین کے سلسلہ میں کئے جانے والے اقدامات پر روک لگانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں ۔ حیدرآباد میں مسلمانوں کی تجہیز و تکفین کے مسائل میں بتدریج اضافہ ہوتا جا رہاہے اور اس مسئلہ کی یکسوئی کے لئے فوری طور پر اقدامات ناگزیر ہیں لیکن اس مسئلہ کو نظر انداز کرتے ہوئے یہ تاثر دیا جانے لگا ہے کہ یہ مسئلہ کبھی سنگین نوعیت اختیار نہیں کرسکتا جبکہ شہر حیدرآباد کے مرکزی علاقوں میں موجود قبرستانوں میں اب جگہ باقی نہیں رہی اور جن مقامات پر جگہ باقی ہے ان مقامات پر تجہیز و تکفین کا عمل لاکھوں روپئے کا ہوچکا ہے۔ حکومت تلنگانہ کی جانب سے سال 2023کے دوران ریاست بھر میں مسلمانوں کی تجہیز و تکفین کے سلسلہ میں اقدامات کے طور پر 125ایکڑ اراضی حوالہ کرتے ہوئے نئے قبرستانوں کے لئے اراضی مختص کرنے کے احکام جاری کئے گئے تھے اور ان احکامات کے مطابق ضلع رنگاریڈی میں تین مختلف مقامات پر مجموعی اعتبار سے 72.22 ایکڑ اراضی کی تخصیص عمل میں لائی گئی تھی اور میڑچل ۔ملکا جگری کے علاقہ میں 58.18 ایکڑ اراضی مختص کی گئی تھی ۔شہر حیدرآباد کے اطراف علاقوں میں مختص کی گئی اس اراضی کے بعد بھی شہر حیدرآباد میں تدفین کے مسائل کو حل نہیں کیا جاسکا ہے اور شہر حیدرآباد میں جن علاقوں میں قبرستان کے لئے مختص اراضیات موجود ہیں انہیں متنازعہ بناتے ہوئے ان مقامات پر تدفین کی اجازت فراہم کرنے سے گریز کیاجا رہاہے۔ شہری حدود میں موجود قبرستانوں کی اراضیات پر ناجائز قبضوں کا سلسلہ جوں کا توں برقرار ہے۔دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد میں موجود قبرستانوں ‘ آستانوں اور بارگاہوں و درگاہوں سے متصل قبرستانوں میں موجود جگہ اب مکمل طور پر ختم ہونے لگی ہے اور عوام کی تشویش میں اضافہ ہوتا جا رہاہے ۔ شہر کے نواحی علاقوں میں لوگ نئے قبرستانوں کے لئے جگہ کے حصول کی کوشش کر رہے ہیں لیکن اراضیات کی قیمتوں میں ہونے والے اضافہ کے سبب وہ ایسا کرنے سے قاصر ہیں کیونکہ انہیں چند ایکڑ اراضی کے لئے بھی کروڑہا روپئے ادا کرنے پڑرہے ہیں اور کہا جارہا ہے کہ جن مقامات پر اراضیات کی نشاندہی کی جا رہی ہے ان کے قریب بڑے پراجکٹس ہونے کے سبب وہاں تجہیز و تکفین کے مسائل پیدا ہونے کا بھی خدشہ ہے لیکن شہر کے چند ذمہ داروں کی جانب سے مضافات میں کھلی اور بنجر اراضیات کی نشاندہی کرتے ہوئے ان اراضیات کو اپنے ذاتی ‘ خاندانی قبرستان کے طور پر خرید کر محفوظ کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے ۔دونوں شہروں میں قبرستان کی اراضی کے لئے پیدا ہونے والے مسائل کو دور کرنے کے سلسلہ میں مختلف گوشوں سے مسلسل نمائندگیاں کی جاتی رہی ہیں لیکن اس کے باوجود شہری حدود میں تجہیز و تکفین کا مسئلہ حل نہیں ہورہا ہے جبکہ شہر میں کئی اوقافی اراضیات کھلی پڑی ہیں جو کہ قبرستان کے لئے مخصوص ہیں لیکن اطراف کی آبادیوں کی جانب سے تدفین پر کئے جانے والے اعتراضات کی بنیاد پر ان مقامات پر تدفین کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔3