حیدرآباد ۔ 22 ۔ اگست : ( سیاست نیوز ) : شہر حیدرآباد طویل عرصے سے پوشیدہ ایوانوں کا شہر رہا ہے اور دفن خزانے کے بارے میں کہانیاں بہت زیادہ تھیں ۔ 2012 میں ریاستی سکریٹریٹ کے قریب ایک سرنگ نما ڈھانچے کے اندر 20,000 کروڑ روپئے کے خزانے کی تلاش سے لے کر 2015 میں چارمینار کے قریب ایک سرنگ نما ڈھانچے کی دریافت اور چارمینار کو گولکنڈہ قلعہ سے جوڑنے والے زیر زمین راستے کی بات تک فروری 2012 میں ریاستی سکریٹریٹ کے قریب ایک بڑے خزانے کی تلاش میں سرنگ میں چھپائے گئے 20,000 کروڑ روپئے سے زیادہ کے زیورات اور قیمتی پتھروں کے بارے میں معلومات پھیل گئی ۔ محکمہ آثار قدیمہ کو مبینہ طور پر ٹی بی راجو چیف مینجر ( پرنسل ) کی سربراہی میں نو ممتاز شہریوں سے ایک حلف نامہ موصول ہوا ۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے پاس چھپے ہوئے خزانے کے بارے میں معلومات تھیں ۔ گروپ نے کہا کہ انہیں اس کے بارے میں دو ماہ قبل علم ہوا تھا لیکن ابتدائی طور پر مافیا کے ملوث ہونے کے خوف سے حکام سے رابطہ کرنے سے ڈرتے تھے ۔ یہ خیال کیا جاتا تھا کہ نوبت پہاڑ کے قریب اسکول کے احاطے کی دیوار کے پیچھے ایک چھوٹی سی سیڑھی تھی جو سرنگ نما ڈھانچے کی طرف جاتی ہے ۔ اسکول کی عمارت خود تقریبا 100 سال پرانی ہے اور شہر کے مورخین کا کہنا ہے کہ پہاڑی کے کنارے ایک چھوٹا سا غار تھا ۔ اس سرنگ کی لمبائی 12 فٹ 12 فٹ بائی جاتی ہے ۔ شہر کے تاریخ داں ڈاکٹر صفی اللہ کے مطابق بہت سے امیر خاندانوں نے دوسری جنگ عظیم کے دوران فرار ہونے کے لیے بنکر بنائے تھے ۔ اسی طرح کے بنکر ٹکسال کے احاطے میں بھی پائے گئے ۔ انہوں نے کہا کہ ان بنکروں سے لوہے کے ایک درجن سیف برآمد کئے گئے ۔ حالانکہ وہ سب خالی تھے ۔ 14 اپریل 2015 میں ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پولیس نے سرنگ نما ڈھانچے کو مسمار کردیا جو چارمینار کے قریب دریافت ہوئی تھی ۔ جس پر تنقید کی گئی ۔ یہ ڈھانچہ جس کے بارے میں ابتدائی طور پر قیاس کیا گیا تھا کہ ایک سرنگ ہے پولیس کی تعمیراتی جگہ سے ملی تھی ۔ یہ ڈھانچہ ایک ایسے علاقے سے ملا جہاں پولیس کوارٹر دوبارہ تعمیر کئے جارہے تھے ۔ 2019 میں یہ اطلاع ملی تھی کہ ایک زیر زمین سرنگ چارمینار کو گولکنڈہ قلعہ سے جوڑتی ہے جو شاید ہنگامی حالات میں شاہی خاندان کے لیے فرار کا راستہ ہے ۔ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا نے سرنگ کا پتہ لگانے کے لیے کھدائی شروع کی ۔ لیکن یہ پگڈنڈی کچھ ہی فاصلے پر ختم ہوگئی ۔۔ ش m/b