نصف شب کے ساتھ ہی بلا وجہ سائرن بجانا ‘ ٹھیلہ بنڈی والوں کو نشانہ بنانا معمول بن گیا ہے
حیدرآباد 16اگسٹ(سیاست نیوز) شہر حیدرآباد کی میٹروپولیٹین سٹی اور اسمارٹ سٹی کے طور پر ترقی کے اعلانات کے دوران شہر میں رات کے اوقات میں پولیس ہراسانی اور 12 بجتے ہی سختی سے تجارتی اداروں اور ہوٹلوں کو بند کروانے کے علاوہ ٹھیلہ بنڈی رانوں کو حراست میں لینے کے واقعات سے شہریوں میں خوف پیدا ہونے لگا ہے ۔ کہا جا رہاہے کہ پولیس کی جانب سے رات کے اوقات میں سختی کے سبب شہریوں بالخصوص مسافرین کو جو رات دیر گئے شہر پہنچ رہے ہیں اور مختلف کمپنیوں میں دیر رات خدمات کے بعد واپسی کرنے والوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ شہر اور اطراف کے علاقوں میں تین پولیس کمشنریٹ ہیں جن میں حیدرآباد‘ رچہ کنڈہ اور سائبر آباد شامل ہیں ۔ سائبر آباد اور رچہ کنڈہ میں رات کے اوقات میں کاروبار کرنے والوں پر کوئی سختی نہیں برتی جا رہی ہے جبکہ حیدرآباد کمشنریٹ میں پولیس کے رویہ سے ہوٹل اور ریستوراں مالکین کے علاوہ ٹھیلہ بنڈی رانوں میں خوف و دہشت ہے کیونکہ رات 12 بجے کے بعد مکانات واپس ہونے والے ٹھیلہ بنڈی رانوں کو بھی ہراساں کرنا معمول بن چکا ہے۔ شہر میں امن و امان کی برقراری کے علاوہ قانون نافذ کرنا پولیس کی ذمہ داری ہے اور صوتی آلودگی پر قابو پانے کمشنر پولیس کی 100 نمبر پر شکایت کے بعد کارروائی خبروں کا حصہ بنی رہی لیکن روزانہ رات میں شہر کے بیشترتمام علاقو ںمیں 12 بجنے سے پہلے تجارتی اداروں کو بند کروانے پولیس گاڑیوں کے سائرن جس انداز میں بجائے جاتے ہیں وہ بھی صوتی آلودگی کا سبب ہیں کیونکہ تجارتی علاقوں میں رہائشی مکینوں کو پولیس کے بلا وجہ سائرن سے تکالیف کا سامنا کرناپڑتا ہے ۔ امن و ضبط کی برقراری کے نام پر تجارتی اداروں کو بند کروانے اور دہشت مچانے سے جو صورتحال پیدا ہورہی ہے وہ شہر کو اسمارٹ سٹی تصور کرنے والوں کیلئے حیرت کا باعث ہے کیونکہ حکومت کی جانب سے شہر کو اسمارٹ سٹی اور بلدیہ کی جانب سے اسے کاسمو پولیٹین سٹی بنانے کے اعلانات سے شائد محکمہ پولیس کے عہدیدار واقف نہیں ہیں یا انہیں احساس نہیں کہ اسمارٹ سٹی اور میٹروپولیٹین سٹی میں رات کے اوقات میں شہریوں و مسافروں کیلئے کس طرح کی سہولتیں رہتی ہیں ۔ پولیس عہدیداروں کو رات کے اوقات شہر کی سڑکوں پر تماشوں سے آگہی حاصل کرنے کے علاوہ پولیس اہلکاروں کے رویہ کے متعلق تفصیلات حاصل کرنے اور شہریوں کو سہولتوں کی فراہمی کے سلسلہ میں ضروری اقدامات کرنے پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے ۔ م