نیویارک : اقوام متحدہ نے بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی حکومت کو انسانیت کے خلاف جرائم کا مرتکب قرار دیا ہے۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اقوام متحدہ کا کہنا ہیکہ بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے اقتدار میں رہنے کے لیے انسانیت کے خلاف جرائم کیے۔اقوام متحدہ کی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں کہا گیا ہیکہ حسینہ واجد کی حکومت کے خلاف گزشتہ سال بنگلہ دیش میں طلبہ نے ملک بھر میں انقلابی احتجاج کیا جس پر شیخ حسینہ حکومت نے ایک منظم انداز میں کریک ڈاؤن کیا اور اس دوران سیکڑوں ماورائے عدالت قتل کیے گئے۔یو این رپورٹ میں گزشتہ سال یکم جولائی سے 15 اگست تک بنگلہ دیش میں پیش آنے والے واقعات کا احاطہ کیا گیا ہے اور اس بنیاد پر اقوام متحدہ کے انسانی حقوق دفتر کا کہنا ہیکہ ان کے پاس یہ بات کہنے کی معقول وجوہات موجود ہیں کہ شیخ حسینہ حکومت انسانیت کے خلاف جرائم، قتل، تشدد، قید و بند اور بہت سے انسانیت سوز اقدامات میں ملوث رہی ہے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہیکہ حکومت نے یہ جرائم شیخ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ پارٹی کے پرتشدد عناصر کے ساتھ مل کر کیے جب کہ بنگلہ دیش کی سکیورٹی اور انٹیلی جنس سروسز بھی ان سب اقدامات میں شامل رہی ہیں جن میں ملک میں ہونے والے ایک بڑے احتجاج پر منصوبہ بندی کے تحت کریک ڈاؤن کیا گیا اور دیگر عام شہریوں کو بھی نشانہ بنایا گیا، یہ تمام اقدامات شیخ حسینہ نے اپنی حکومت کو برقرار رکھنے کے لیے کیے۔رپورٹ کے مطابق بنگلہ دیش میں گزشتہ سال 45 دنوں تک ہونے والے احتجاج میں حکومتی کریک ڈاؤن کے نتیجے میں 1400 افراد جاں بحق ہوئے جن میں 12 سے 13 فیصد کم عمرشامل ہیں۔