شیشہ و تیشہ

   

احمد علوی
وہی ہوتا ہے … !!
پانچ سالوں سے ہیں پردیس میں اپنے صاحب
بچہ ہر سال مگر گھر میں نیا ہوتا ہے
نیک بیوی کی خطا کوئی نہیں ہے شاید
وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے
…………………………
ایوب خان جھاپڑؔ (کویت)
چشمہ
چھوٹی آنکھوں پہ ہے بڑا چشمہ
کمسنی ہی میں لگ گیا چشمہ
وہ نظر تو بھٹک نہیں سکتی
جس نظر کا رہے حیا چشمہ
ٹھوکروں سے بچائے گا مجھ کو
ہے مرے پاس جو نیا چشمہ
ڈھونڈنا ہوگیا بہت مشکل
کالے رخ پہ ترے سیاہ چشمہ
خاک سمجھے گی وہ نظر غربت
جس نظر پہ ہے مال کا چشمہ
لوگ تکتے ہیں یوں حسیں چہرے
رُخ پہ رکھے ہوئے سیاہ چشمہ
پل میں انساں بنے گا تو جھاپڑؔ
عقل و دانش کا تو لگا چشمہ
…………………………
کوئی ضرورت نہیں …!!
٭ ایک ڈاکٹر نے اپنے دولتمند مریض کے انتقال کے بعد ، اس کے علاج وغیرہ کے اخراجات کا بل ، مرحوم کی املاک کے نگراں کو پیش کیا ، اور کہا ، آیا ثبوت کے لئے کوئی حلفنامہ پیش کرنا پڑے گا کہ یہ مریض میرے زیرعلاج تھا …!؟
نگراں جائیداد نے کہا : ’’اس کی کوئی ضرورت نہیں ، مریض کی موت ہی اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ آپ کے ہی زیرعلاج تھا …!!‘‘۔
ابن القمرین ۔ مکتھل
…………………………
ایک تیر سے دو شکار …!!
٭ ایک کنجوس شوہر سے بیوی نے کہا : ارے سُنتے ہو …! میں نے تمہیں گاجر لانے کے لئے کہا تھا ، تم تو مولی اُٹھاکر لے آئے…! ۔
شوہر نے کہا : بیگم جان بوجھ کر ہی لایا ہوں ۔ مولی آج سلاد کے طورپر کھالیں گے اور کل اُس کے پتوں کا ساگ بنادینا ۔ بیگم کچھ سمجھ آیا ، ایک تیر سے دو شکار اِسی کو کہتے ہیں ۔
کوثر جہاں بیگم ۔ عادل آباد
…………………………
…خبر پہ شوشہ …
’’بلی کے بھاگوں چھیکا ٹوٹا ‘‘
٭ اس ہفتہ میڈیا میں ایک دلچسپ خبر وائرل ہوئی۔ قصہ یوں تھا کہ بنگلور میں ایک خاتون اپنے پڑوسی سے جھگڑ رہی تھی کہ تمہارا بلّا (نر بلّی) ہمارے گھر آتا جاتا تھا۔ جس سے ہماری بلّی حاملہ ہوگئی اور اس نے چار بچّوں کو جنم دیا۔ بلّی کی یہ ناراض مالکن اپنی بلّی کے چار بچوں کے ساتھ پڑوسی کے گھر پہنچی اور کہا ان بچوں کو پالنا آپ کی ذمہ داری ہے۔ کیونکہ آپ کا بلّا اِن کی پیدائش کا ذمہ دار ہے۔ یہ بحث و تکرار جب ہنگامے بننے لگی تو کسی نے پولیس کو فون کردیا۔ پولیس انسپکٹر اپنے عملے کے ساتھ موقع پر پہنچا اور قصہ سنکر ہنس پڑا ،اور معاملہ رفع دفع کردیا۔ اچھا ہوا یہ واقعہ بنگلورو میں وقوع پذیر ہوا۔ ہوسکتا ہے اگر یہ واقعہ کسی ڈبل انجن کی سرکار والی ریاست میں ہوتا تو بلّے کے خلاف POCSO کے تحت مقدمہ درج ہوتا اور ممکن ہے اس کا گھر بلڈوز کردیا جاتا۔ اس طرح ’’بلّے کے بھاگوں چھیکا ٹوٹا… !‘‘
کے این واصف۔ ریاض
…………………………
تو پہلے اُسے …!!
٭ فقیر نے ایک شخص سے کہا ’’ بابا خدا کے نام پر کچھ دو ‘‘ …!اُس شخص نے کہا ’’ تمہارے پاس دس روپئے کاکھلا ہوگا…!؟‘‘
فقیر نے فوراً کہا ’’ کیوں نہیں ، کھلا چاہئے ؟ ‘‘
ا س شخص نے کہا ’’ تو پہلے اُسے خرچ کرو نا ‘‘
کلثوم مشتاق۔ وٹے پلی
…………………………
مسابقت …!!
٭ جیل میں ایک قیدی نے دوسرے قیدی سے پوچھا تمہیں کس جرم کی پاداش میں سزا ملی تو دوسرا بولا : میری حکومت سے مسابقت چل رہی تھی ۔
تو پہلے نے حیرانی سے پوچھا کیا تم لیڈر ہو ؟ تو دوسرے نے جواب دیا نہیں میں بھی سرکار کی طرح نوٹ چھاپ رہا تھا …!!
مظہر قادری ۔ حیدرآباد
…………………………