کانگریس کے نمائندہ کی بھی شرکت، ٹی آر ایس سربراہ و چیف منسٹر تلنگانہ کی مساعی میں مایوسی
حیدرآباد۔12۔جون(سیاست نیوز) چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ ملک کے صدارتی انتخابات میں ہم خیال سیاسی جماعتوں کے ہمراہ اجلاس اور غیر کانگریسی و غیر بی جے پی امیدوار میدان میں اتارنے کے سلسلہ میں غور کرتے رہ گئے اور کانگریس کے علاوہ ترنمول کانگریس نے صدرجمہوریہ ہند کے انتخابات کے سلسلہ میں اپنی اپنی پیشرفت شروع کردی ہے۔ کانگریس سربراہ سونیاگاندھی جو ان دنوں کورونا وائرس کے سبب علیل ہیں اور شریک دواخانہ ہیں نے صدارتی انتخابات کے سلسلہ میں دیگر سیاسی جماعتوں سے مشاورت کا اختیار مسٹر ملکارجن کھرگے کو تفویض کیا ہے جو کہ سینیئر قائدہونے کے سبب ملک کی بیشترسیاسی جماعتوں میںاپنے گہرے تعلقات رکھتے ہیں۔ چیف منسٹر بنگال مسز ممتا بنرجی نے صدر جمہوریہ کے انتخابات کے سلسلہ میں 15جون کو دہلی میں مختلف ہم خیال سیاسی جماعتو ںکا اجلاس طلب کرلیا ہے اور کہا جا رہاہے کہ ترنمول کانگریس اپوزیشن کے مشترکہ امیدوار کے حق میں ہے اور اس بات کی کوشش کرے گی کہ تمام اپوزیشن جماعتو ںکے علاوہ این ڈی اے سے ناراض سیاسی جماعتوں کے قائدین سے ملاقات کرتے ہوئے صدر جمہوریہ کے لئے اپوزیشن کے امیدوار کو کامیاب بنانے کے اقدامات کئے جائیں۔ کے چندر شیکھرراؤجو گذشتہ کئی ماہ سے قومی سطح پر محاذ کی تشکیل اور صدر جمہوریہ کے انتخابات میں غیر کانگریسی اور غیر بی جے پی امیدوار کو میدان میں اتارنے کی بات کر رہے تھے وہ ابھی سوچ ہی رہے ہیں لیکن ترنمول کانگریس نے دہلی میں مختلف سیاسی جماعتوں کا اجلاس بھی طلب کرلیا۔ ذرائع کے مطابق اس اجلاس میں کانگریس کے نمائندے بھی شرکت کریں گے علاوہ ازیں این سی پی ‘ شیوسینا ‘ سماج وادی پارٹی کے علاوہ دیگر سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کی بھی اس اجلاس میں شرکت متوقع ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ شرومنی اکالی دل ‘ عام آدمی پارٹی اور جنوبی ہند کی سیاسی جماعتوں کے نمائندے بھی اس اجلاس میں شرکت کرتے ہوئے مستقبل کی حکمت عملی کا جائزہ لیں گے۔ کے چندر شیکھر راؤ جو صدارتی انتخابات میں غیر یو پی اے اور غیر این ڈی اے محاذ کے ساتھ صدارتی امیدوار میدان میں اتارنے کے لئے شیوسینا‘ این سی پی کے علاوہ جے ڈی ایس قائدین سے ملاقات کرچکے ہیں لیکن انہیں شیوسینا اور این سی پی سے واضح مایوسی کا سامنا کرنا پڑاتھا کیونکہ دونوں ہی سیاسی جماعتوں کے ذمہ دارو ںنے کہہ دیا تھا کہ وہ کانگریس کے ساتھ اتحاد میں حکومت چلا رہے ہیں ایسے میں وہ کانگریس کے خلاف امیدوار کی تائید نہیں کرسکتے ۔کانگریس کے ذرائع کا کہناہے کہ مسز گاندھی نے ملک بھر کی صورتحال کا جائزہ لینے اور سیاسی جماعتوں کے موقف کے علاوہ برسراقتدار جماعت کے ووٹوں کی گنتی اور این ڈی اے کے خلاف متوقع ووٹ کی جانچ کی ہدایت دی ہے اور کہا ہے کہ پارٹی قائدین زمینی حقائق کا جائزہ لیتے ہوئے صدارتی امیدوار کے متعلق فیصلہ کریں۔ بتایا جاتا ہے کہ اگر اپوزیشن امیدوار مضبوط پیش کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں این ڈی اے میں شامل بعض سیاسی جماعتوں کی جانب سے بھی اس امیدوار کے حق میں ووٹ کا استعمال کیا جاسکتا ہے اور امیدوار پر اتفاق رائے پیدا ہوتا ہے تو کانگریس تمام دیگر سیاسی جماعتو ںکا ساتھ دینے کے لئے بھی آمادہ ہے ۔ ترنمول کانگریس کی جانب سے 15جون کو دہلی میں طلب کئے گئے اجلاس کے بعد صدر جمہوریہ کے انتخابات کے لئے سیاست میں گرمی پیدا ہونے کی توقع ہے اور کہا جا رہاہے کہ جلد ہی صدرجمہوریہ کے اپوزیشن کے امیدوار کا اعلان بھی کردیا جائے گا۔م