رکن قانون ساز کونسل رحمت بیگ کا تحریک مراعات پیش کرنے پر غور
حیدرآباد۔9۔ستمبر۔(سیاست نیوز) رحمت بیگ صدرنشین تلنگانہ قانون ساز کونسل سے ملاقات کرتے ہوئے اپنا استعفیٰ پیش کرنے کے بجائے انہیں تحریک مراعات پیش کرنے سے متعلق مشاورت کر رہے ہیں! بتایا جاتاہے کہ رحمت بیگ نے صدر مجلس بیرسٹر اسدالدین اویسی کی ہدایت کو نظرانداز کرنے کے بعد اب قائد ایوان مقننہ اکبر الدین اویسی کی تاکید اور انتباہ کو بھی نظرانداز کردیا ہے۔ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق رحمت بیگ کو حیدرآباد واپسی کے بعد اندرون 24 گھنٹے قانون ساز کونسل کی رکنیت سے مستعفی ہونے کا انتباہ دیا گیا تھا لیکن اب جو اطلاعات موصول ہورہی ہیں ان کے مطابق رحمت بیگ نے مستعفی ہونے کے بجائے ضلع انتظامیہ ‘ مجلس بلدیہ عظیم ترحیدرآباد‘ محکمہ اقلیتی بہبود کے خلاف تحریک مراعات پیش کرنے سے متعلق تبادلہ خیال کرنا شروع کردیا ہے۔ بتایا جاتاہے کہ ملک پیٹ اسٹیل برج کے افتتاح کی تختی میں ان کا نام شامل نہ کئے جانے اور گذشتہ شب نامپلی میں محکمہ اقلیتی بہبود کے پروگرام کے لئے شائع کئے گئے دعوت نامہ میں ان کا نام شامل نہ کرتے ہوئے ’’پروٹوکول‘‘ کی خلاف ورزی کی گئی ہے ۔ بتایاجاتاہے کہ رکن قانون ساز کونسل کی حیثیت سے فوری طور پر مستعفی نہ ہونے کے فیصلہ پر برقرار رہتے ہوئے مرزا رحمت بیگ یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ انہیں معیاد کی تکمیل تک کوئی عہدہ سے ہٹانہیں سکتا اور اگر ’’ایتھکس کمیٹی‘‘ سے شکایت کے بعد ان کی رکنیت برخواست کی جاتی ہے تو ایسی صورت میں وہ عدالت سے رجوع ہوتے ہوئے حکم التواء حاصل کریں گے۔ رحمت بیگ کو دی گئی ہدایات پر عمل آوری نہ کئے جانے پر جماعت کے قائدین و کارکنوں میں بے چینی کی کیفیت ہے کیونکہ اگر ’’رحمت بیگ‘‘ جیسے افراد بھی ہدایت کو ماننے سے انکار کرتے ہیں تو ایسی صورت میں سیاسی گرفت پر سوالیہ نشان لگ سکتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ رحمت بیگ کی حیدرآباد واپسی کے بعد بھی وہ کسی سے رابطہ میں نہیں ہیں اور جماعت کی پہنچ سے باہر ہیں۔ ذرائع کے مطابق رحمت بیگ اپنے قانونی مشیروں کے علاوہ بعض سیاسی قائدین سے بھی رابطہ ہیں اور ان کی ایماء پر ہی مستعفی ہونے سے انکار کر رہے ہیں۔ استعفیٰ کے لئے ان کی جانب سے پیش کی گئی شرائط کو اب تک بھی مخفی رکھا گیا ہے اور یہ باور کروایا جارہا ہے کہ رحمت بیگ جلد ہی قانون ساز کونسل کی رکنیت سے مستعفی ہوجائیں گے اسی لئے ’ہدایت ‘ ماننے والے کارکنوں و قائدین کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اس معاملہ میں تبادلہ خیال سے گریز کریں۔3