اپوزیشن کو نشانہ بنانے کی کوشش، ٹی آر ایس نے 13 ماہ کی کارروائیوں کی تفصیلات اکٹھا کیں
حیدرآباد۔/28 اگسٹ، ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں ٹی آر ایس و بی جے پی کے درمیان سیاسی تناؤ کے سبب قومی تحقیقاتی ایجنسیوں کی تلنگانہ میں کارروائیوں کا اندیشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔ بی جے پی قائدین نئی دہلی کے لکر اسکام میں چیف منسٹر کی دختر کویتا کے ملوث ہونے کا الزام عائد کررہے ہیں اور یہاں تک کہہ دیا کہ سی بی آئی تحقیقات کا سامنا کرنا پڑیگا۔ دوسری طرف ٹی آر ایس نے تحقیقاتی ایجنسیوں خاص طور پر سی بی آئی و ای ڈی کی ملک بھر میں کارروائیوں کی تفصیلات اکٹھا کی ہیں۔ گزشتہ چند ماہ میں سی بی آئی و ای ڈی نے صرف غیر بی جے پی ریاستوں میں دھاوے کئے جبکہ بی جے پی ریاستوں میں کارروائی نہیں کی گئی حالانکہ ان میں بدعنوانیوں کے کئی معاملات منظر عام پر آئے۔ ٹی آر ایس کی محصلہ تفصیلات کے مطابق ای ڈی و سی بی آئی نے ایسے موقع پر کارروائیوں کا آغاز کیا جب مرکز سے غیر بی جے پی حکومتوں کی کشیدگی میں اضافہ ہوا۔ بہار میں سی بی آئی نے 18 مئی کو آر جے ڈی سربراہ لالو یادو کے خلاف 25 مقامات پر دھاوے کئے۔ لالو پرساد اور ان کے افراد خاندان پرروزگار کی فراہمی معاملہ میں بے قاعدگیوں کا الزام ہے۔ یہ دھاوے اس وقت کئے گئے جب نتیش کمار نے بی جے پی کا ساتھ چھوڑ کر آر جے ڈی سے مفاہمت کی۔ ٹی آر ایس لیڈر پی وشنو وردھن ریڈی نے ٹوئٹر پر لکھا کہ گزشتہ 13 ماہ میں ایجنسیوں نے صرف غیر بی جے پی ریاستوں میں کارروائیاں کی شاید بی جے پی ریاستوں میں راجہ ہریش چندر کے رشتہ دار ہیں۔ اپوزیشن نے مرکزی ایجنسیوں کی کارروائیوں کو سیاسی اغراض پر مبنی قرار دیا۔ وزیر آئی ٹی کے ٹی راما راؤ نے بھی ٹوئٹر پر سی بی آئی اور ای ڈی کی جانب سے بی جے پی قائدین اور ان کے رشتہ داروں کے خلاف 8 برسوں میں کارروائیوں کی تفصیل طلب کی ہیں۔ پنجاب، راجستھان، مہاراشٹرا، کیرالا ، چھتیس گڑھ، جھار کھنڈ، مغربی بنگال کے بعد دہلی میں عام آدمی پارٹی کے ڈپٹی چیف منسٹر منیش سیسوڈیا کے خلاف کی گئی ہے۔ ٹی آر ایس نے تحقیقاتی ایجنسیوں کی کارروائیوں کی تفصیلات اکٹھا کرکے بی جے پی کا سیاسی طور پر مقابلہ کرنے کی تیاری کی ہے۔ یہ تفصیلات مختلف اپوزیشن جماعتوں کے قائدین کو روانہ کی جارہی ہیں۔ر