سروے رپورٹ ٹی آر ایس کے حق میں،کے ٹی راما راؤ کو منگوڑ میں انچارج مقرر کرنے مقامی قائدین کی مساعی
حیدرآباد۔/10 اگسٹ، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے رکن اسمبلی کومٹ ریڈی راجگوپال ریڈی کے کانگریس اور اسمبلی رکنیت سے استعفی کے فوری بعد ضمنی چناؤ پر توجہ مرکوز کی ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق چیف منسٹر نے انٹلیجنس اور بعض خانگی اداروں کے ذریعہ منگوڑ کی صورتحال پر رپورٹ طلب کی ہے۔ رپورٹ مجموعی طور پر ٹی آر ایس کے حق میں بتائی گئی ہے جس کے بعد چیف منسٹر نے صدرنشین قانون ساز کونسل جی سکھیندر ریڈی اور وزیر برقی جگدیش ریڈی کو ضمنی چناؤ کی ذمہ داری دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ابتدائی سروے رپورٹ میں ٹی آر ایس کی کامیابی کے امکانات کو روشن بتایا گیا ہے اور چیف منسٹر تلنگانہ میں دو ضمنی چناؤ کی شکست کے بعد تیسرے چناؤ میں کامیابی کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔ اگرچہ راجگوپال ریڈی ضمنی چناؤ میں بی جے پی کے امیدوار کے طور پر میدان میں اتریں گے لیکن ان کے لئے منگوڑ میں دوبارہ کامیابی حاصل کرنا آسان نہیں ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ دوباک اور حضورآباد کے ضمنی چناؤ میں کامیابی حاصل کرنے والی بی جے پی کو منگوڑ میں ہیٹ ٹرک سے روکنا چیف منسٹر کے سی آر کا مشن بن چکا ہے وہ کسی بھی صورت میں بی جے پی کو کامیابی سے روکنا چاہتے ہیں تاکہ اسمبلی انتخابات سے قبل ٹی آر ایس کی طاقت کا مظاہرہ ہوسکے۔ چیف منسٹر کا احساس ہے کہ اگر منگوڑ میں بی جے پی کو کامیابی حاصل ہوتی ہے تو اس کا اثر اسمبلی انتخابات پر پڑے گا لہذا نلگنڈہ اور بھونگیر اضلاع سے تعلق رکھنے والے عوامی نمائندوں کو نومبر میں ہونے والے ضمنی چناؤ کی تیاریاں ابھی سے شروع کرنی ہوںگی۔ باوثوق ذرائع کے مطابق چیف منسٹر کو مختلف ذرائع سے جو رپورٹ فراہم کی گئی ہے اس میں ٹی آر ایس کی کامیابی کے علاوہ کانگریس کو دوسرے نمبر پر بتایا گیا ہے۔ کومٹ ریڈی راجگوپال ریڈی کے بارے میں عوام میں ناراضگی پائی جاتی ہے کیونکہ رکن اسمبلی کی حیثیت سے انہوں نے دیہی علاقوں میں ترقیاتی کاموں پر توجہ نہیں دی ہے۔ سروے رپورٹ کی بنیاد پر چیف منسٹر کسی عوامی مقبول اور طاقتور امیدوار کو میدان میں اتارنا چاہتے ہیں۔ صدرنشین قانون ساز کونسل جی سکھیندر ریڈی نے اپنے فرزند کو ٹکٹ کیلئے چیف منسٹر سے نمائندگی کی ہے۔ متحدہ ضلع نلگنڈہ کے قائدین ضمنی چناؤ کیلئے وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی کے ٹی راما راؤ کو انچارج مقرر کرنے کے حق میں ہیں۔ ر