طلبہ کو بیک وقت دو ڈگری کورسس میں داخلہ کی سہولت سے یونیورسٹیز کو مشکلات

   

یو جی سی کی قواعد چیلنج سے کم نہیں،طلبہ کو ایک سے زائد شعبوں میں قابلیت کیلئے سہولت کی فراہمی
حیدرآباد۔18۔ مئی (سیاست نیوز) یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کی جانب سے طلبہ کو دوہری ڈگری پروگرام نے تلگو ریاستوں کی یونیورسٹیز کے لئے چیلنج کی صورتحال پیدا کردی ہے۔ یو جی سی نے طلبہ کو بیک وقت دو کورسس میں داخلہ حاصل کرنے کی گنجائش فراہم کی ہے لیکن کالجس اور یونیورسٹیز کیلئے اس پروگرام پر عمل آوری آسان نہیں ہے ۔ یو جی سی نے اعلیٰ تعلیمی اداروں کو ڈبل ڈگری اسکیم پر عمل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ سنٹرل یونیورسٹیز ، قومی یونیورسٹیز ، خود مختار ادارے اور غیر سرکاری ادارے فنڈس اور انفراسٹرکچر کی فراوانی کے نتیجہ میں دوہری ڈگری کے پروگرام پر عمل آوری کے لئے تیار ہیں جبکہ تلنگانہ اور آندھراپردیش کی ریاستی یونیورسٹیز اور سرکاری سطح کے تعلیمی ادارے دشواری محسوس کر رہے ہیں۔ قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے تحت ڈبل ڈگری پروگرام متعارف کیا گیا تاکہ طلبہ کو بیک وقت ایک سے زائد شعبوں میں مہارت حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا جائے۔ اسکیم کے تحت کوئی بھی طالب علم بیک وقت دو ڈگری پروگرام میں داخلہ لے سکتا ہے اور دونوں کورسس کے اوقات علحدہ ہونے کی صورت میں طلبہ کلاسس میں شرکت کرسکتے ہیں۔ ڈبل ڈگری پروگرام کے بارے میں تعلیمی ماہرین کی جانب سے متضاد رائے ظاہر کی گئی ہے۔ کوئی بھی طالب علم ایک ہی یونیورسٹی میں دو علحدہ ڈگری پروگرام یا پھر دو علحدہ یونیورسٹیز میں کورسس میں داخلہ لے سکتا ہے۔ یو جی سی کے قواعد کے مطابق طالب علم کو ایک ڈگری پروگرام کی کلاسس شخصی طور پر جبکہ دوسری ڈگری کے کلاسس فاصلاتی تعلیم کے ذریعہ شرکت کی گنجائش رہے گی۔ یو جی سی نے طلبہ کو آن لائین یا فاصلاتی تعلیم کے ذریعہ بیک وقت ذو ڈگریوں میں داخلے کی گنجائش فراہم کی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ ریاستی یونیورسٹیز یو جی سی کے قواعد پر کس حد تک عمل کرپائیں گی۔ر