طلبہ کی ترقی اور خود اعتمادی کیلئے مطالعہ ضروری: صدرجمہوریہ

,

   

دستور پر عمل کرنا صرف ارکان پارلیمنٹ اور ججس کی ذمہ داری نہیں، کیشو میموریل سوسائٹی کے طلبہ سے دروپدی مرمو کا خطاب

حیدرآباد۔/27 ڈسمبر، ( سیاست نیوز) صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے طلبہ کو مطالعہ کا ذوق پیدا کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہاکہ مطالعہ کے ذریعہ نہ صرف خود اعتمادی بلکہ خود اپنی ترقی کی راہ ہموار کی جاسکتی ہے۔ صدر جمہوریہ نے کہا کہ انسان چاہے کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہوجائے اور بلند عہدہ پر فائز کیوں نہ ہو لیکن اسے اپنے اقدار، اصولوں اور روایات سے انحراف نہیں کرنا چاہیئے۔ صدر جمہوریہ آج حیدرآباد میں کیشو میموریل ایجوکیشن سوسائٹی کے تحت چلنے والے تعلیمی اداروں کے طلبہ اور اساتذہ سے خطاب کررہی تھیں۔ صدر جمہوریہ نے تقریباً دو گھنٹے تک طلبہ سے بات چیت کی اور ان کے سوالات کے جواب دیئے۔ صدر جمہوریہ مرمو طلبہ کے درمیان خود کو پاکر خوشی محسوس کررہی تھیں اور ان کے بات چیت کے انداز سے سابق صدر جمہوریہ ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کی یاد تازہ ہوگئی جو ہمیشہ بچوں میں گھل مل کر ان کی حوصلہ افزائی کرتے تھے۔ صدر جمہوریہ نے کہا کہ زیادہ مطالعہ کے ذریعہ مسائل کو سمجھنے اور انہیں سلجھانے کی صلاحیت پیدا ہوسکتی ہے۔ قابلیت اور ہنر دونوں مطالعہ سے حاصل ہوسکتے ہیں اور یہ خصوصیات زندگی بھر کام آتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ یہ انٹرنیٹ اور سوشیل میڈیا کا دور ہے اور اطلاعات کی ترسیل آسان ہوچکی ہے باوجود اس کے طلبہ کو مطالعہ کا ذوق کم نہیں کرنا چاہیئے۔ صدر جمہوریہ نے کہا کہ کسی بھی قوم کی تعمیر میں تعلیم بنیادی اہمیت رکھتی ہے اور ہر شخص اپنی مخفی انفرادی صلاحیتوں کو اُجاگر کرسکتا ہے۔ صدر جمہوریہ نے کیشو میموریل ایجوکیشن سوسائٹی کی سرگرمیوں کی ستائش کی اور کہا کہ 1940 میں ایک چھوٹے اسکول سے آغاز کرتے ہوئے آج 9 کالجس قائم کئے گئے اور طلبہ کی تعداد 11 ہزار سے زائد ہے۔ سوسائٹی کی تعلیمی سرگرمیوں کا فروغ دراصل آنجہانی جسٹس کیشو راؤ کورٹکر کی مساعی کا نتیجہ ہے جن کی یاد میں سوسائٹی قائم کی گئی ہے۔ صدر جمہوریہ نے کہا کہ ایک ذمہ دار شہری تیار کرنے اور ملک کی ترقی سے ہم آہنگ شہریوں کی تیاری میں تعلیم کا اہم رول ہے۔ تعلیم ہی سماج کی بھلائی کو یقینی بناسکتی ہے۔ صدرجمہوریہ نے کہا کہ دستور کے اصولوں پر عمل کرتے ہوئے سماج میں ہر کسی کی ترقی کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں لڑائی کا ماحول تبدیل ہوچکا ہے اور آئندہ نسلوں کیلئے دنیا کا تحفظ کیا جارہا ہے۔ طلبہ کے مختلف سوالات کا جواب دیتے ہوئے صدر جمہوریہ نے کہا کہ وقت کی ضروریات اور تبدیل شدہ حالات کے تحت دستور میں ترمیم کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ دستور کی از سر نو ترتیب کیلئے وزیر اعظم اقدامات کررہے ہیں۔ صدر جمہوریہ نے کہا کہ دستور پر عمل آوری صرف ارکان پارلیمنٹ اور ججس کی نہیں بلکہ ہر ہندوستانی شہری کی ہے۔ راشٹر پتی مرمو نے کہاکہ عوام کو درپیش مسائل کا حل تہذیبی روایات کے تحفظ کے ذریعہ کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے طلبہ سے سوال کیا کہ وہ کس طرح کے ہندوستان کو دیکھنا چاہتے ہیں۔ ایک طالب علم نے کہا کہ وہ امریکہ کی طرح ہندوستان کو بھی ترقیافتہ دیکھنا چاہتے ہیں جس پر صدر جمہوریہ نے کہا کہ ہم امریکہ کی طرح نہیں ہیں۔ انہوں نے طلبہ سے پوچھا کہ امریکہ کی آبادی کتنی ہے اور وہاں کتنے مذاہب اور ذات پات کے لوگ بستے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی انفرادیت ہے کہ یہاں تمام مذاہب ایک گلدستہ کی طرح ہیں جو دنیا بھر میں ایک خوبی ہے، ہمیں اپنے سسٹم کے مطابق ترقی کرنا ہوگا۔ ریاستی گورنر ٹی سوندرا راجن، مرکزی وزیر ثقافت و کلچر جی کشن ریڈی اور وزیر بہبودی خواتین و اطفال ستیہ وتی راٹھور اس موقع پر موجود تھے۔ر