قدیم سمنٹ فیاکٹری کی اراضی کا حصول بھی ممکن ، سرگرمیاں جاری
حیدرآباد /18 مئی ( سیاست نیوز ) عادل آباد میں منی ایرپورٹ کی تعمیر کا خواب شرمندہ تعبیر ہونے جارہا ہے ۔ واضح رہے کہ متحدہ آندھراپردیش میں عہدیداروں نے عادل آباد میں منی ایرپورٹ تعمیر کرنے کی خاطر سروے کرتے ہوئے مرکزی حکومت کو رپورٹ پیش کی تھی ۔ حکومت ہند نے اپنی ملکیت والی سمنٹ کارپوریشن آف انڈیا کی مشنری کیلئے ای ٹنڈر طلب کر رہی ہے ۔عادل آباد میں سمنٹ فیاکٹری ناکارہ پڑی ہوئی ہے ۔ ایسے میں کہا جارہا ہے کہ مرکزی حکومت ضلع عادل آبادمیں منی ایرپورٹ کی تعمیر کو منظوری دے رہی ہے ۔ سی سی آئی کی جانب سے جاری کردہ نوٹفیکیشن کے مطابق ای ٹنڈرس 5 تا 23 مئی تک وصول کئے جاسکتے ہیں اور لگائی جانے والی بولیاں 120 دن بعد کھولی جائیں گی ۔ عادل آباد کے مکینوں کا ماننا ہے کہ اگر منی ایرپورٹ کو حقیقت میں منظوری دی گئی ہے تو اس کا مطلب سمنٹ فیاکٹری ہمیشہ ہمیشہ کیلئے بند ہوجائے گی ۔ مجوزہ ایرپورٹ کی اراضی اب بے کار پڑی سمنٹ فیاکٹری کے قریب ہے اور اس فیاکٹری سے اٹھنے والا دھواں ایرپورٹ کیلئے تباہ کن ہوسکتا ہے اور طیارہ لینڈنگ اور پرواز کرنے میں مشکلات آسکتی ہیں ۔ اس کے علاوہ ایرپورٹ کے قیام کیلئے 1550 ایکر اراضی درکار ہوتی ہے ۔ جبکہ فی الوقت صرف 369 ایکر اراضی دستیاب ہے ۔ یہ بھی سمجھا جارہا ہے کہ سمنٹ فیاکٹری کی اراضی کو بھی ایرپورٹ کی تعمیر میں استعمال کیا جائے گا ۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ متحدہ آندھراپردیش میں جو رپورٹ مرکزی حکومت کو روانہ کی گئی تھی اس کو ہی منظوری دی جارہی ہے ۔ تلنگانہ حکومت منی ایرپورٹ کے قیام کیلئے عادل آباد کو اس لئے ترجیح دے رہی ہے کیونکہ موسمی و جغرافیائی اعتبار سے کافی بہتر ہے اور اس کے علاوہ عادل آباد ٹاون شمالی و جنوبی ریاستوں کو ایک دوسرے سے جوڑنے میں معاون و مددگار ثابت ہوگا ۔ ن