عازمین حج کو فراہم کردہ سم کارڈس کی غیر کارکردگی پر تحقیقات نظر انداز

   

سینکڑوں حاجیوں کے ساتھ دھوکہ دہی ، عہدیداروں کو لاکھوں کے فونس کا تحفہ ، حج کمیٹی کو تحقیقات کروانے کی ضرورت
حیدرآباد۔30جولائی (سیاست نیوز) تلنگانہ ریاستی حج کمیٹی کے ذریعہ حج 2025 کے دوران فروخت کئے جانے والے موبائیل سم کارڈس کے معاملہ کی جانچ اور خاطیوں کے خلاف کاروائی کے بجائے اس معاملہ کو نظرانداز کرتے ہوئے سم کارڈ کی فروخت کرنے والوں کو حاجیوں کو دھوکہ دہی کے باوجود آزاد چھوڑ دیاگیا۔ حج کمیٹی نے عازمین حج کی سہولت کے نام پر موبائیل اور انٹرنیٹ کے پری پیڈ سم کارڈ جو کہ حج ہاؤز میں کاؤنٹر قائم کرتے ہوئے فروخت کئے گئے تھے اور ان سم کارڈس کی عدم کارکردگی کے متعلق متعدد شکایات کے بعد یہ سلسلہ بند کردیا گیا تھا لیکن یہ کہا گیا تھا کہ حج 2025 کے اختتام کے بعد اس سلسلہ میں کاروائی کرتے ہوئے سم کارڈ کی فروخت میں ملوث افراد بالخصوص عملہ کے خلاف کاروائی کی جائے گی اور عازمین حج کو ان کی جانب سے ادا کی گئی سم کارڈس کی قیمت واپس ادا کرنے کے اقدامات کئے جائیں گے لیکن اب جبکہ حج 2026 کے امور شروع کئے جاچکے ہیں لیکن اس کے باوجود سم کارڈ کی فروخت کے معاملہ میں کی جانے والی دھاندلیوں پر مکمل خاموشی اختیار کی جا رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق سم کارڈس کی عدم کارکردگی کے معاملہ کو عازمین حج نے سعودی عرب پہنچنے کے بعد ذمہ داروں کو واقف کروایا تھا اور اس بات کا انکشاف ہوا تھا کہ تلنگانہ ریاستی حج کمیٹی اور حیدرآباد ائیر پورٹ سے روانہ ہونے والے عازمین حج کو حج ہاؤز میں قائم کئے گئے کاؤنٹر کے ذریعہ 3500تا4500 روپئے میں موبائیل سم کارڈ فروخت کئے گئے تھے جو کہ سعودی عرب پہنچنے کے بعد غیر کارکرد ثابت ہوئے ۔ اس معاملہ میں عملہ کے علاوہ بعض عہدیداروں کے ملوث ہونے کی شکایات موصول ہوئی ہیں لیکن ان کے خلاف کسی بھی طرح کی کاروائی نہیں کی گئی اور کہا جا رہاہے کہ موبائیل سم کارڈ جو کہ ہزاروں عازمین حج کو فروخت کئے گئے تھے اس کے معاوضہ کے طور پر عہدیداروں کو لاکھوں روپئے مالیتی فون دلوانے کے علاوہ انہیں ایک سال تک کے موبائیل رچارج کروائے گئے ہیں ۔تلنگانہ ریاستی حج کمیٹی کے ذمہ داروں بالخصوص صدرنشین حج کمیٹی مولانا غلام سید شاہ افضل بیابانی کو اس معاملہ کی جامع تحقیقات کرواتے ہوئے اس معاملہ میں ملوث عملہ کے خلاف کاروائی کرنی چاہئے تاکہ حج 2026 کے دوران حج کمیٹی کے عملہ میں شامل کوئی شخص اس طرح کی سرگرمیوں میں ملوث نہ ہواور نہ ہی عازمین حج کو برسرعام لوٹا جاسکے ۔ عازمین حج کو دن دہاڑے لوٹنے کے معاملہ میں اختیار کی جانے والی خاموشی عوام میں کئی شبہات پیدا کرنے کا مؤجب بن رہی ہیں اسی لئے اس معاملہ کی تحقیقات کرتے ہوئے سم کارڈ فروخت کرنے والوں کے خلاف کاروائی کو یقینی بنایاجانا ضروری ہے۔3