چین ،امریکہ اور ہندوستان میں صنعتوں سے گیس کا اخراج،موسمی تبدیلی پر ماہرین کا اظہار تشویش
حیدرآباد۔11۔ستمبر (سیاست نیوز) عالمی حدت میں CO2 یعنی کاربن ڈائی آکسائیڈکا اہم رول ہے۔ صنعتی اداروں اور خاص طور سے فیکٹریوں سے دھوئیں کی شکل میں نکلنے والا کاربن ڈائی آکسائیڈ ماحولیاتی آلودگی کے لئے خطرہ تصور کیا جاتا ہے۔ ہوا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کے معاملہ میں چین دنیا میں سرفہرست ہے ، جہاں ایک اندازہ کے مطابق 12289 ملین ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ فضاء میں ہر سال شامل ہورہی ہے۔ امریکہ 4904 ملین ٹن کے ساتھ دوسرے اور ہندوستان 3193 ملین ٹن کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔ روس ،جاپان اور انڈونیشیا بھی ان ممالک میں شامل ہیں جو سینکڑوں ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ ہر سال فضاء میں خارج کرتے ہیں۔ کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کے معاملہ میں دنیا کے جن 10 ممالک کی نشاندہی کی گئی ، ان میں جاپان ، انڈونیشیا ، ایران ، سعودی عرب ، ساؤتھ کوریا اور جرمنی شامل ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی معیشت میں اہم حصہ داری ادا کرنے والے ممالک کی جانب سے عالمی حدت میں اضافہ میں اہم رول ادا کر رہے ہیں۔ ماہرین نے ہوا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی شمولیت کو انسانی زندگی کے لئے خطرہ بتایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر موسمی تبدیلی اور خاص طور پر حدت میں اضافہ کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج پر قابو پانا ضروری ہے۔ ایران میں ہر سال 793 ملین ٹن جبکہ سعودی عرب میں 692 ملین ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ فضاء میں شامل ہورہی ہے۔ صنعتی سرگرمیوں میں اضافہ کسی بھی ملک کی ترقی کا ضامن قرار دیا جاتا ہے لیکن ترقی کے نام پر فضائی آلودگی میں اضافہ کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے۔ ماحولیاتی تبدیلی کے نتیجہ میں کئی ممالک میں مانسون ناکام رہا اور گزشتہ سال کے مقابلہ معمول سے بھی بارش ریکارڈ کی گئی۔ اس صورتحال کا راست طور پر اثر زرعی شعبہ کی پیداوار پر دیکھا جارہا ہے۔1/k/m/b