عثمانیہ ہاسپٹل کی موجودہ ہیرٹیج عمارتوں کا تحفظ کیا جائے گا

   

ریاستی وزراء اور عوامی نمائندوں کا اجلاس، اطراف کی اراضی پر نئی تعمیرات، ہائی کورٹ کو رپورٹ کی پیشکشی
حیدرآباد۔23۔ مئی (سیاست نیوز) تاریخی عثمانیہ جنرل ہاسپٹل کے تحفظ کیلئے حکومت کی جانب سے منصوبہ کو قطعیت دی گئی ہے۔ وزیر صحت ہریش راؤ ، وزیر داخلہ محمد محمود علی اور وزیر اینمل ہسبنڈری سرینواس یادو کے علاوہ رکن پارلیمنٹ اسد اویسی ، رکن اسمبلی اکبر اویسی اور سکریٹری ہیلت سید علی مرتضیٰ رضوی نے عہدیداروں کے ساتھ مشاورت کرتے ہوئے ہائی کورٹ میں پیش کئے جانے والے منصوبہ کو طئے کیا ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق حکومت نے عثمانیہ ہاسپٹل کی ہیرٹیج عمارت کے تحفظ کا فیصلہ کیا ہے۔ عمارت کو منہدم کرنے کے بجائے تعمیر و مرمت کے ذریعہ تحفظ کیا جائے گا ۔ واضح رہے کہ عمارت کے تحفظ کیلئے ہائیکورٹ میں مفاد عامہ کی درخواست زیر تصفیہ ہے اور ہائیکورٹ نے عمارت کے موقف کا جائزہ لینے کیلئے ماہرین کی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ اجلاس میں طئے کیا گیا کہ عمارت کا تحفظ کرتے ہوئے اسے دیگر اغراض کیلئے استعمال کیا جائے گا جبکہ مریضوں کیلئے موجودہ عمارت کے اطراف کھلی اراضی پر نئی عمارتیں تعمیر کی جائیں گی۔ متبادل منصوبہ کو ہائیکورٹ کی منظوری کیلئے روانہ کیا جائے گا ۔ عدالت سے منظوری کے بعد تعمیری کاموں کا آغاز ہوگا ۔ واضح رہے کہ عثمانیہ ہاسپٹل کی موجودہ عمارت انتہائی مخدوش ہوچکی ہے اور بعض گوشوں سے اسے منہدم کرنے کی تجویز پیش کی گئی ۔ طویل مشاورت کے بعد حکومت نے موجودہ عمارت کے تحفظ کا فیصلہ کیا گیا۔ موجودہ عمارت کا شمار حیدرآباد کی خوبصورت عمارتوں میں ہوتا ہے جس کی تعمیر نظام حیدرآباد کے دور میں ہوئی تھی۔ر