عثمانیہ یونیورسٹی کے ایم اے فارسی اور عربی کورسیس کو خطرہ

   

داخلے نہ ہونے کی صورت میں کورسیس کو برخاست کرنے پر غور
حیدرآباد۔27۔مئی ۔(سیاست نیوز) جامعہ عثمانیہ میں چلائے جانے والے ایم اے عربی اور فارسی کے کورسس کو ختم کردیا جائے گا! جامعہ عثمانیہ میں جاری ایم اے عربی اور فارسی کے کورس میں داخلے نہ ہونے کے نتیجہ میں ان کورسس کو یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے برخواست کرنے کے سلسلہ میں غور کیا جا رہا ہے اور کہا جا رہاہے کہ اگر جاریہ سال ایم اے عربی اور ایم اے فارسی میں کوئی داخلہ نہیں ہوتا ہے تو ایسی صورت میں دونوں کورسس کے علاوہ دیگر ان کورسس کو جن میں داخلے نہیں ہورہے ہیں انہیں برخواست کردیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق عثمانیہ یونیورسٹی میں موجود شعبہ فارسی اور عربی کے تحت چلائے جانے والے ان کورسس میں داخلے نہیں ہوتے ہیں تو ایسی صورت میں ان کورسس کو برخواست کرنے کے بعد ان شعبہ جات کو بھی برخواست کرنے کے سلسلہ میں اقدامات کا آغاز ہوسکتا ہے کیونکہ اگر کسی شعبہ کے تحت چلائے جانے والے پوسٹ گریجویشن کورس میں داخلوں کا سلسلہ بند ہوتا ہے تو بتدریج گریجویشن کی سطح پر بھی داخلوں میں گراوٹ ریکارڈ کی جانے لگتی ہے اور جب گریجویشن میں کوئی داخلہ نہیں ہوتا تو ایسی صورت میں ان شعبوں کو بھی برخواست کردیا جاتا ہے ۔ جامعہ عثمانیہ میں موجود شعبہ فارسی اور عربی کو بچانے کے لئے ضروری ہے کہ ان شعبہ جات کے تحت چلائے جانے والے ایم اے فارسی اور ایم اے عربی کے کورسس میں داخلوں کو یقینی بنایا جائے تاکہ ان داخلوں کے ذریعہ شعبہ کے تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے ۔ سابق ریاست دکن بالخصوص شہر حیدرآباد کی تاریخ کا کافی مواد فارسی اور عربی زبان میں موجود ہے اگر ان دونوں زبانوں کے ماہرین نہیں رہیں گے تو ایسی صورت میں ریاست دکن کی تاریخ کے مختلف پہلوؤں کا احاطہ کرنا بھی مشکل ہوجائے گا کیونکہ عربی اور فارسی زبانوں میں موجود مواد کوجب کوئی پڑھنے والا ہی نہیں ہوگا تو ایسی صورت میں ان کے حوالے کہاں سے دیئے جائیں گے!جامعہ عثمانیہ کے ان شعبہ جات میں خدمات انجام دینے والے اساتذہ کی جانب سے بھی اس بات کی کوشش کی جارہی ہے کہ ان کورسس میں نوجوانوں کو داخلہ دلوایا جائے لیکن اس کے باوجود نوجوانوں میں عدم دلچسپی کے نتیجہ میں بہت کم تعداد میں ان کورسس میں داخلے ممکن ہوپا رہے ہیں ۔بتایاجاتا ہے کہ جامعہ عثمانیہ میں موجود ایم اے مراٹھی ‘ ایم اے کناڈاکے علاوہ تھیٹرس آرٹ کے کورسس میں بھی داخلہ نہ ہونے کے سبب ان کورسس کو بھی برخواست کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ذرائع کے مطابق جامعہ عثمانیہ کے ذمہ داروں کی جانب سے جن کورسس کو برخواست کرنے کا منصوبہ تیار کیا جا رہاہے ان کے شعبہ جات کو اس سلسلہ میں مطلع کرنے کے اقدامات بھی جاری ہیں ۔بتایا جاتا ہے کہ ان شعبہ جات میں خدمات انجام دینے والے ذمہ داروں کو یونیورسٹی کی جانب سے کورسس میں داخلوں کے متعلق مطلع کرنے کے بعد قطعی فیصلہ کیا جائے گا۔3